لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00
ہیڈ لائنز

مڈٹرم الیکشن 2026: باراک اوباما کی شدید تنقید پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کاجوابی وار،اوباما کو “غیر فعال اور ناکام صدر” قرار دے دیا

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

واشنگٹن / ڈیٹروئٹ (ویب ڈیسک): 3 نومبر کے وسط مدتی (Midterm) انتخابات سے محض چند روز قبل امریکی سیاست کے دو بڑے معاف اور سابق و موجودہ صدور کے درمیان شدید ترین لفظی جنگ چھڑ گئی ہے۔

سابق صدر باراک اوباما (Barack Obama) کی جانب سے اوہائیو اور میشیگن کی ریلیوں میں کی جانے والی شدید تنقید کے بعد، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ (Truth Social) پر جوابی حملہ کرتے ہوئے اوباما کو “شدید ناہل اور ناکام صدر” قرار دے دیا ہے۔

ٹرمپ نے لکھا کہ “اوباما ایک انتہائی غیر فعال صدر تھے جنھوں نے ایران کو اربوں ڈالر دے کر ایٹمی ہتھیاروں کا راستہ فراہم کیا۔ انہوں نے کرپٹ ہلری کلنٹن اور کاملا ہیرس کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا لیکن دونوں کو شکست کا سامنا کرنا پڑا”۔

ٹرمپ نے اوباما کی جانب سے میشیگن سے ڈیموکریٹک سینیٹ امیدوار ڈاکٹر عبداللہ السید (Abdul El-Sayed) کی حمایت پر شدید سخت ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے انہیں “جعلی ڈاکٹر” اور “انتہا پسند” قرار دیا اور دعویٰ کیا کہ میشیگن کے ووٹرز کبھی بھی السید جیسے اوپن بارڈر رہنما کو ووٹ نہیں دیں گے۔ ٹرمپ نے اپنے حامیوں سے ریپبلکن امیدوار مائیک روجرز (Mike Rogers) کو ووٹ دینے کی اپیل کی۔

اوباما نے ڈیٹروئٹ میں ہزاروں حامیوں کے سامنے بولتے ہوئے 3 نومبر کے انتخابات کو ٹرمپ انتظامیہ کے اقدامات اور “بے وقوفیوں” پر قابو پانے کے لیے ایک “سرکٹ بریکر” قرار دیا تھا۔ اوباما نے ٹرمپ پر وائٹ ہاؤس اور دفاعی پالیسیوں کو ذاتی مفادات کے لیے استعمال کرنے کا الزام بھی لگایا۔

سرویز کے مطابق عبداللہ السید اور مائیک روجرز کے درمیان میشیگن سینیٹ کی نشست کے لیے مقابلہ انتہائی سخت اور برابر کا چل رہا ہے۔ کامیاب ہونے کی صورت میں عبداللہ السید امریکی سینیٹ کے پہلے مسلم رکن بن جائیں گے۔