برازیلیا / واشنگٹن: برازیل میں صدارتی انتخابات کے لیے پولنگ کا آغاز ہو چکا ہے، جسے نہ صرف برازیل بلکہ پورے لاطینی امریکہ کا سب سے اہم اور فیصلہ کن معرکہ قرار دیا جا رہا ہے۔
اس الیکشن کے نتائج یہ طے کریں گے کہ آیا جنوبی امریکہ کا سب سے بڑا ملک امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دائیں بازو کے بلاک میں شامل ہوگا یا اپنی آزادانہ خود مختار پالیسی برقرار رکھے گا۔
انتخابی سروے کے مطابق مقابلہ 80 سالہ موجودہ لیفٹسٹ صدر لوئس اناسیو لولا ڈی سلوا (Luiz Inácio Lula da Silva) اور 45 سالہ فار رائٹ سینیٹر فلاویو بولسونارو (Flávio Bolsonaro) کے درمیان انتہائی سخت اور کانٹے دار ہے۔ فلاویو بولسونارو، برازیل کے سابق صدر جائر بولسونارو کے بیٹے ہیں، جو 2022 کے انتخابات میں شکست کے بعد بغاوت کی کوشش پر گھر میں نظر بند ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیویارک میں ‘شیلڈ آف دی امریکہ ز’ (Shield of the Americas) نامی انسدادِ منشیات اتحاد کے اجلاس میں دعویٰ کیا تھا کہ ان کے دوسرے دورِ اقتدار میں لاطینی امریکہ کی تمام 7 صدارتی نشستوں پر ان کے حمایت یافتہ امیدواروں نے کامیابی حاصل کی ہے۔ وینزویلا کے صدر نیکولس مادورو کی برطرفی کے بعد خطے میں صرف 6 ممالک (بشمول برازیل اور میکسیکو) میں بائیں بازو کی حکومتیں بچی ہیں۔
موجودہ صدر لولا ڈی سلوا نے امریکی قیادت والے اتحاد کی مخالفت کرتے ہوئے اسے ملکی خودمختاری کے خلاف قرار دیا ہے اور نایاب معدنیات (Rare Earths) پر امریکی مطالبات کو مسترد کر دیا ہے۔ اس کے برعکس، فلاویو بولسونارو نے امریکہ کے ساتھ مکمل اتحاد اور نایاب معدنیات کی فراہمی کا وعدہ کیا ہے تاکہ امریکہ کی چین پر انحصار کو ختم کیا جا سکے۔
انتخابی مساوات اور رن آف (Runoff): اگر پہلے مرحلے میں کوئی بھی امیدوار 50 فیصد سے زائد ووٹ حاصل کرنے میں ناکام رہا تو 25 اکتوبر کو دونوں کے درمیان حتمی ‘رن آف’ (Runoff) مقابلہ ہوگا۔





