لندن: برطانیہ کے ملٹری ایئربیس ‘آر اے ایف فیئر فورڈ’ (RAF Fairford) کے قریب انسدادِ دہشت گردی کی ایک بڑی کارروائی کے بعد گرفتار کیے گئے پانچوں برطانوی شہریوں کو پولیس کی جانب سے ضمانت پر رہا کیے جانے کے فیصلے نے برطانیہ اور امریکا کے درمیان شدید سفارتی و سیکیورٹی تشویش پیدا کر دی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے برطانوی حکام کے اس فیصلے پر سخت حیرت اور تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب پیر کی رات گلوسٹر شائر کے گاؤں ویلفورڈ میں واقع ایئربیس کے قریب سے تین مشکوک وینز کی اطلاع پر پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے لندن سے تعلق رکھنے والے پانچ برطانوی شہریوں کو دھماکہ خیز مواد اور دہشت گردی کے شبہے میں گرفتار کیا تھا۔
واقعہ کے بعد پورے گاؤں کو 36 گھنٹوں کے لیے سیل کر دیا گیا تھا اور بم ڈسپوزل اسکواڈ و روبوٹس کی مدد سے وینز کی تلاشی لی گئی۔ تاہم بعد میں بم ڈسپوزل ماہرین کی جانب سے تصدیق کی گئی کہ وینز سے کوئی دھماکہ خیز مواد نہیں ملا۔
وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برطانوی پولیس کی جانب سے ملزمان کو ضمانت دینے پر ناپسندیدگی ظاہر کی۔
ٹرمپ نے کہا: “ہم ان کے بارے میں سب جانتے ہیں، اگر ہم ہوتے تو ان ملزمان کو ہرگز ضمانت پر رہا نہ کرتے”۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا اس معاملی کا تعلق ایران سے ہے تو انہوں نے اشارہ دیا کہ ایسا ہو سکتا ہے۔
یہ خبر بھی پڑھیئے: برطانیہ میں امریکی بمبارطیاروں کےایئربیس کے قریب5 افرادگرفتار
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ اتنے سنگین معاملے میں ملزمان کی رہائی انتہائی تشویشناک ہے اور اس واقعے میں کسی غیر ملکی کارندے (Foreign Actor) کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔
برطانیہ کے کاؤنٹر ٹیررازم پولیسنگ کے سربراہ لابس اسٹنٹ کمشنر لورینس ٹیلر (Laurence Taylor) نے واضح کیا کہ ملزمان کی رہائی کا مطلب یہ نہیں کہ تحقیقات ختم ہو چکی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ملزمان کو سخت شرائط کے تحت رہا کیا گیا ہے اور پولیس اس زاویے سے بھی تحقیقات کر رہی ہے کہ آیا یہ افراد کسی غیر ملکی ریاست (یا ایران) کے اشارے پر کام کر رہے تھے۔
لندن میں واقع ایرانی سفارت خانے نے واقعے میں کسی بھی قسم کی شمولیت سے مکمل انکار کیا ہے





