لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00
ہیڈ لائنز

امریکہ اورچین کےدرمیان بڑی پیش رفت:60 ارب ڈالرکی اشیاءپرٹیرف کم کرنےاورتجارتی جنگ بندی میں توسیع پراتفاق

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

واشنگٹن / بیجنگ: دنیا کی دو بڑی معاشی طاقتوں، امریکہ اور چین نے باہمی تجارتی کشیدگی کم کرنے کی سمت اہم قدم اٹھاتے ہوئے ایک دوسرے کی 60 ارب ڈالر (30،30 ارب ڈالر) مالیت کی تجارتی اشیاء پر عائد ٹیرف (درآمدی محصولات) میں کمی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی دونوں ممالک نے تجارتی جنگ بندی میں 10 جنوری تک توسیع پر بھی اتفاق کیا ہے۔

امریکی تجارتی نمائندے جیمی سن گریئر (Jamieson Greer) کے مطابق غیر حساس تجارتی اشیاء پر اس ریلیف سے چین کے لیے امریکی برآمدات کے تقریباً 30 فیصد حصے کو مارکیٹ تک زیادہ سازگار رسائی حاصل ہو گی۔

چین کی جانب سے امریکی مکئی، گندم، جوار، گوشت، ڈیری مصنوعات، سبزیوں کے تیل، مچھلی اور سمندری خوراک، لکڑی، کاسمیٹکس اور طبی آلات پر محصولات کم کیے جائیں گے۔ (تاہم امریکی سویابین کو اس فہرست میں شامل نہیں کیا گیا)۔

امریکہ چین سے آنے والے کافی میکرز، ٹوسٹرز، برتن، کمبل، بیڈ لینن، کھلونے، آتش بازی، مصنوعی پھول، کرسمس لائٹس اور بچوں کی کار سیٹوں پر ٹیرف کم کرے گا۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق چین 2027 اور 2028 میں امریکہ سے سالانہ 1 کروڑ میٹرک ٹن کوئلہ درآمد کرے گا، جو چینی مارکیٹ کے لیے اضافی ذریعہ اور امریکی کوئلہ انڈسٹری کے لیے روزگار کا باعث بنے گا۔ (ایل این جی اور تیل ٹیرف فہرست میں شامل نہیں)۔

چینی وزارتِ تجارت کے مطابق تجارتی جنگ بندی میں 10 جنوری تک توسیع کی گئی ہے تاکہ فریقین کو اقتصادی معاملات حل کرنے اور سرمایہ کاری پر باقاعدہ مذاکرات کا موقع مل سکے۔

دونوں ممالک نے آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) سے متعلق رابطے کے لیے مواصلاتی نظام قائم کرنے، براہِ راست پروازوں میں اضافے اور چین میں غیر ملکی مالیاتی اداروں کی شاخیں کھولنے کی منظوری کے جائزوں پر بھی اتفاق کیا ہے۔