نیویارک: اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے خلاف نیویارک میں سڑکوں پر نکلنے والے امریکی یہودیوں اور انسانی حقوق کے کارکناں کے خلاف پولیس نے سخت کارروائی کی ہے۔ نیویارک پولیس (NYPD) نے مظاہرہ ختم کرواتے ہوئے ہالی ووڈ کی آسکر ایوارڈ یافتہ اداکارہ سوسن سارینڈن (Susan Sarandon) اور معروف کامیڈین اداکارہ حنا آئن بائنڈر (Hannah Einbinder) سمیت 100 سے زائد افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے (AFP) اور مقامی میڈیا کے مطابق یہ مظاہرہ یہودی تنظیم ‘جیوش وائس فار پیس’ (Jewish Voice for Peace) کے زیرِ اہتمام اقوامِ متحدہ کے ہیڈ کوارٹر کے باہر کیا گیا تھا، جہاں 400 سے زائد افراد نے دھرنا دے کر “اسرائیل کو اسلحہ دینا بند کرو” اور “نسل کشی روکو” کے نعرے لگائے۔
گرفتاری کے بعد حنا آئن بائنڈر نے اپنے انسٹاگرام پر لکھا کہ “میرے اور میرے دوستوں کی گرفتاری کے مناظر سے زیادہ اصل کہانی یعنی غزہ اور جنوبی لبنان میں اسرائیل کی جانب سے جاری تباہ کن نسل کشی اور مظالم پر دنیا کی توجہ ہونی چاہیے۔ امریکی حکومت غاصب اور قاتل کا استقبال کر رہی ہے۔”
مشہور فلم ’دیلما اینڈ لوئیس‘ کی سٹار سوسن سارینڈن پہلے بھی فلسطین کی حمایت میں بولنے کی سزا بھگت چکی ہیں۔ انہوں نے حال ہی میں وینس فلم فیسٹیول میں بتایا تھا کہ فلسطین کا ساتھ دینے پر ہالی ووڈ ایجنسیوں نے ان سے کئی فلمیں واپس لے لیں۔
پولیس ترجمان نے کہا کہ مظاہرین نے سڑک اور چوراہا بلاک کر رکھا تھا، وارننگ دینے کے بعد بھی جگہ خالی نہ کرنے پر گرفتاری کی گئی جبکہ جیوش وائس فار پیس نے تصدیق کی کہ 100 سے زائد کارکناں کو حراست میں لیا گیا۔
نیویارک کی سڑکوں پر مظاہروں کے ساتھ ساتھ جنرل اسمبلی کے اندر بھی نیتن یاہو کو شدید سبکی کا سامنا کرنا پڑا۔ جیسے ہی نیتن یاہو نے تقریر شروع کی، دنیا بھر کے درجنوں ممالک کے سفارتکار اور وفود احتجاجاً ہال سے واک آؤٹ کر گئے۔
اسرائیلی وزیراعظم نے اپنی تقریر میں برطانیہ اور فرانس جیسے اپنے ہی مغربی اتحادیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جنہوں نے حال ہی میں فلسطین کو بطور آزاد ریاست تسلیم کرنے کے اقدامات کیے ہیں۔





