نئی دہلی/ٹورنٹو: بھارت کی شمال مشرقی سرحدی ریاست ناگالینڈ کی غیر معروف ‘کونیاک’ (Konyak) زبان میں بننے والی کم بجٹ فلم ’انگ‘ (Angh) نے کینیڈا میں منعقدہ عالمی شہرت یافتہ ٹورنٹو انٹرنیشنل فلم فیسٹیول (TIFF) میں اہم ترین ‘پلیٹ فارم پرائز’ (Platform Prize) جیت کر عالمی سینما کی دنیا میں سنسنی پھیلا دی ہے۔ 20 لاکھ سے بھی کم آبادی والی ریاست ناگالینڈ سے تعلق رکھنے والے نوجوان ہدایت کار تھیجا ریو (Theja Rio) کی یہ بطور ڈائریکٹر پہلی فیچر فلم ہے، جبکہ اس کے زیادہ تر اداکاروں نے زندگی میں پہلی بار کیمرے کا سامنا کیا۔
اس تاریخی کامیابی کے ساتھ ہی نئے قوانین کے تحت فلم ’انگ‘ کے لیے 2027 کے اکیڈمی ایوارڈز (آسکرز) کی ‘انٹرنیشنل فیچر فلم’ کیٹیگری میں نامزدگی کی راہ بھی ہموار ہو گئی ہے۔
1960ء کی دہائی اور بدلتی دنیا: فلم کی کہانی 1960ء کی دہائی کے اوائل کے ناگالینڈ پر مبنی ہے، جہاں کونیاک قبیلے کا ایک بوڑھا وراثتی سربراہ ‘انگبا’ (Anghba) اور اس کا چھوٹا بیٹا بدلتے ہوئے معاشرتی اور مذہبی ماحول میں زندگی گزار رہے ہیں۔
اس دور میں امریکی مشنریوں (جس میں اسکاٹش اداکار ڈگلس ہینشال نے کردار ادا کیا ہے) کی آمد کے ساتھ قبائلی معاشرے میں عیسائیت پھیلنے لگتی ہے۔باپ اپنی آباؤ اجداد کی قدیم مذہبی روایات پر قائم رہتا ہے جبکہ بیٹا جدید دنیا اور نئے مذہب کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔
کونیاک قبیلہ ماضی میں جنگجوؤں کے طور پر اور دشمنوں کے سر قلم کرنے کی روایت کے باعث جانا جاتا تھا، جس کی علامت کے طور پر ان کے بزرگوں کے چہروں پر آج بھی روایتی ٹیٹو موجود ہیں۔ فلم ان کی قدیم روایات سے جدید دنیا کی طرف انتقالِ قدر (Transition) کی عکاسی کرتی ہے۔
خارجی کے بجائے داخلی زاویہ: ہدایت کار تھیجا ریو نے بتایا کہ ماضی میں انگریزوں اور مشنریوں نے قبائلیوں کو ہمیشہ ایک “اجنبی اور عجیب” مخلوق کے طور پر دیکھا۔ لیکن اس فلم میں مقامی اداکاروں، لباس اور مکالموں کے ذریعے اس منظرنامے کو تبدیل کر کے کہانی کو خود ان کے اپنے زاویے سے پیش کیا گیا ہے۔
16 ایم ایم (16mm) اینالاگ فلم پر شوٹ کی گئی اس فلم کو کیمرے کی خوبصورت عکاسی اور جذباتی گہرائی کی بنا پر عالمی ناقدین کی جانب سے بے حد سراہا جا رہا ہے۔





