لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00
ہیڈ لائنز

واشنگٹن میں ٹرمپ اورشی جن پنگ کی تاریخی ملاقات:’تھوسی ڈائیڈس ٹریپ’اورملٹری تصادم سےبچنےکیلئےوسیع تعاون کا اعادہ

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

واشنگٹن: چین کے صدر شی جن پنگ نے امریکہ اور چین کے درمیان مصنوعی ذہانت (AI)، تجارتی تنازعات اور تائیوان کے معاملے پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کو ختم کرنے اور ممکنہ فوجی تصادم سے بچنے کے لیے واشنگٹن کے ساتھ وسیع تر تعاون کا مطالبہ کیا ہے۔

وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ اپنی سربراہی ملاقات کے آغاز پر چینی صدر نے ’تھوسی ڈائیڈس ٹریپ‘ (Thucydides trap) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دونوں سپر پاورز باہمی مفاد اور افہام و تفہیم کے ذریعے مستقبل کے فوجی تصادم کو ٹال سکتی ہیں۔

چینی صدر نے ٹرمپ کے مشہور سیاسی نعرے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ “تصادم کے بجائے ‘چینی قوم کے عظمیٰ احیاء’ اور ‘امریکہ کو دوبارہ عظیم بنانے’ (Make America Great Again) کے اہداف ایک ساتھ آگے بڑھ سکتے ہیں۔”

تھوسی ڈائیڈس ٹریپ (Thucydides Trap): قدیم یونانی تاریخ دان کے اس نظریے کا مطلب ایک ابھرتی ہوئی طاقت (چین) اور قائم شدہ طاقت (امریکہ) کے درمیان ناگزیر جنگی کشیدگی ہے۔ شی جن پنگ نے زور دیا کہ باقاعدہ ملٹری ڈائیلاگ اور کرائسز کمیونیکیشن کے ذریعے اس خطرے پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

سفارتی پیش رفت اور تبادلے: چینی صدر نے تجارتی اور تکنیکی رقابت کو کم کرنے کے لیے 1 لاکھ امریکی طلبہ کو تعلیمی تبادلوں پر چین کے دورے کی دعوت بھی دی۔ صدر ٹرمپ نے اندریوز ایئر فورس بیس پر خود جا کر چینی صدر اور ان کی اہلیہ پینگ لی یوان کا استقبال کیا۔

ٹیک دیوؤں کی اسٹیٹ ڈنر میں شرکت: وائٹ ہاؤس میں دیے گئے پرشکوہ سرکاری عشائیے (State Dinner) میں دنیا کی سرکردہ ٹیک کمپنیوں کے سربراہان نے شرکت کی، جن میں اینویڈیا (Nvidia) کے سی ای او جنسن ہوانگ، میٹا کے مارک زکربرگ، ایپل کے ٹم کک، سپیس ایکس و ٹیسلا کے ایلون مسک اور اوپن اے آئی کے سیم آلٹمین شامل تھے۔

مصنوعی ذہانت اور تجارت: صدر ٹرمپ نے خطابات میں تکنیکی رقابت اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس کا ذکر کرتے ہوئے اسے “سپر انٹیلی جنس” قرار دیا۔ امریکہ اور چین کے درمیان جاری ٹیرف جنگ کو معطل رکھنے کے معاہدے میں فروری تک توسیع کر دی گئی ہے، جبکہ امریکی ٹریژری سکریٹری اسکاٹ بیسنٹ کے مطابق ڈسمبر میں میامی میں متوقع G20 سمٹ میں مزید مذاکرات ہوں گے۔

دونوں رہنماؤں نے دوستانہ اور مثبت تعلقات کا اعادہ کیا، تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مائیکرو چپس اور سیمیکنڈکٹرز کی برآمدات پر امریکی پابندیوں کے باعث تکنیکی اور معاشی رقابت بدستور برقرار رہے گی۔