واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امریکی فوج کو ایران کے ساتھ جنگ میں دھکیلنے کے بعد جانی اور مالی نقصانات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس (AP) اور دی نیویارک ٹائمز (NYT) کی تازہ ترین رپورٹس کے مطابق ایران کے ساتھ جاری اس عسکری تنازع میں امریکی فوج کے اخراجات میں بے پناہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کی جانب سے قانون سازوں کو فراہم کیے گئے نئے ترین فوجی تخمینے کے مطابق 3 ستمبر 2026 تک اس جنگ کی مجموعی لاگت بڑھ کر 43.6 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔
اس سے قبل امریکی کانگریشنل بجٹ آفس (CBO) نے اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ یکم اگست تک جنگی اخراجات 38 ارب ڈالر تھے۔
نتا ئج سے ظاہر ہوتا ہے کہ محض ایک ماہ کے مختصر عرصے کے دوران ہتھیاروں، ایندھن اور فوجی کارروائیوں کی مد میں مزید 6 ارب ڈالر سے زائد رقم جھونک دی گئی۔
اس بے پناہ خرچ کا بڑا حصہ انتہائی مہنگے میزائلوں کی تبدیلی، جنگی طیاروں کی مسلسل پروازوں اور ایندھن پر صرف ہو رہا ہے۔
امریکی ماہرینِ معیشت اور آزاد تحقیقی اداروں کا کہنا ہے کہ پینٹاگون کے ان پوشیدہ اخراجات نے ملکی معیشت پر شدید بوجھ ڈال دیا ہے۔ اس کے نتیجے میں امریکی دفاعی اسٹاکس میں کمی دیکھی جا رہی ہے، جبکہ سال 2027 کی پہلی سہ ماہی میں امریکہ کے اندر مہنگائی کی شرح میں مزید اضافے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔
اس رپورٹ کے منظرِ عام پر آنے کے بعد ڈیموکریٹک رہنماؤں نے صدر ٹرمپ اور ریپبلکن انتظامیہ کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔ ڈیموکریٹس کا کہنا ہے کہ جو حکومت عام امریکیوں کی فلاح و بہبود کے لیے فنڈز کی کمی کا بہانہ بناتی تھی، وہ اس بے مقصد اور خطرناک جنگ پر اربوں ڈالر ضائع کر رہی ہے جس کا خمیادہ براہِ راست امریکی ٹیکس دہندگان بھگت رہے ہیں۔





