لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00
ہیڈ لائنز

آئین کی آزادیِ اظہارپربڑاحملہ: امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ کا CNN،MS Nowاور Politico پر وائٹ ہاؤس میں پابندی کااعلان

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آزادیِ صحافت اور امریکی آئین کی پہلی ترمیم (First Amendment) پر ایک اور شدید حملہ کرتے ہوئے کوریج کے تناظر میں تین معروف بین الاقوامی خبر رساں اداروں سی این این (CNN)، ایم ایس ناؤ (MS Now) اور پولیٹیکو (Politico)— پر وائٹ ہاؤس میں داخلے اور رپورٹنگ پر فوری پابندی کا اعلان کر دیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ (Truth Social) پر جاری کردہ ایک پیغام میں کہا کہ وہ ان اداروں کو “جعلی خبریں (Fake News)” شائع کرنے کی پاداش میں وائٹ ہاؤس سے نکال رہے ہیں اور ان پر پابندی “فوری طور پر نافذ” ہوگی۔ انہوں نے انتباہ دیا کہ جلد دیگر میڈیا اداروں پر بھی ایسی پابندیاں لگائی جا سکتی ہیں۔

صحت عامہ کی پالیسیوں سے متعلق اوول آفس میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران جب نامہ نگاروں نے صدر ٹرمپ سے آئین کی پاسداری اور فری اسپیچ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے اپنے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا:

“مجھے منصفانہ پریس کوریج نہیں ملتی۔ مجھے یہ صرف برائٹ بارٹ (Breitbart) اور کسی حد تک فاکس نیوز (Fox News) سے ملتی ہے۔ میں صرف سچائی کی امید رکھتا ہوں، لیکن عدالتوں کو دن رات من گھڑت کہانیاں لکھنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔ اگر کوئی مسلسل جھوٹی خبریں دکھائے تو اسے دور رکھنے کا حق حاصل ہونا چاہیے۔”

حکومتی رپورٹس اور حالیہ تنازعات:

اگرچہ صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ یہ اقدام گزشتہ چند سالوں کی مجموعی کوریج کا نتیجہ ہے، تاہم وائٹ ہاؤس کے اس اعلان سے قبل تینوں اداروں نے انتظامیہ کے حوالے سے اہم رپورٹس شائع کی تھیں:

واشنگٹن پوسٹ: ایران سے جنگ میں پینٹاگون کے بتائے گئے اعداد و شمار سے زیادہ امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا انکشاف۔

سی این این (CNN): مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ مشرقِ وسطیٰ میں چینی جہاز کی ‘غلط رپورٹ’ جس نے جنگ کی صورتحال پیدا کر دی تھی۔

پولیٹیکو (Politico): F-35 فائٹر جیٹ کی حساس ٹیکنالوجی ہانگ کانگ پہنچنے پر کیپیٹل ہل میں جاری تحقیقات کا انکشاف۔

میڈیا اور آئینی ماہرین کا شدید ردِعمل:

CNN اور Politico: دونوں اداروں نے واضح کیا کہ وہ اپنے صحافیوں اور غیر جانبدارانہ صحافت کے ساتھ کھڑے ہیں اور امریکی آئین کے تحت اپنی کوریج کے حق کا مکمل دفاع کریں گے۔

وائٹ ہاؤس کوراسپونڈنٹس ایسوسی ایشن (WHCA): صدر جیکی ہینریچ نے کہا کہ “یہ محض صحافیوں کے حقوق کا معاملہ نہیں بلکہ امریکی عوام کا اپنے اعلیٰ ترین دفتر کی سرگرمیوں اور فیصلوں سے باخبر رہنے کا آئینی حق ہے۔”

نائٹ فرسٹ امینڈمنٹ انسٹی ٹیوٹ: ایگزیکٹو ڈائریکٹر جمیل جعفر نے اس قدم کو “دگنا غیر آئینی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر اپنے نقطہ نظر یا ناپسندیدہ کوریج کی بنیاد پر صحافیوں کو پریس پول سے باہر نہیں نکال سکتے۔

ٹرمپ انتظامیہ اس سے قبل ‘ایسوسی ایٹڈ پریس’ (AP) کو بھی ‘خلیجِ امریکہ’ کی بجائے ‘خلیجِ میکسیکو’ کی اصطلاح استعمال کرنے پر اوول آفس اور ایئر فورس ون کی کوریج سے روک چکی ہے، جو کہ اب عدالت میں زیرِ سماعت ہے۔