لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00
ہیڈ لائنز

امریکا،ڈینمارک اورگرین لینڈکےدرمیان تاریخی آرکٹک سلامتی معاہدہ طےپاگیا،امریکی فوج کے مستقل کنٹرول کادعویٰ

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ڈینمارک اور گرین لینڈ کی قيادت کے ساتھ ایک “تاریخی اور اہم” آرکٹک سیکیورٹی معاہدے کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت امریکی فوج کو گرین لینڈ کی سیکیورٹی اور دیگر اہم ضروریات پر مستقل کنٹرول حاصل ہو جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ (Truth Social) پر اس معاہدے کو اپنی شخصّی اور سفارتی فتح قرار دیتے ہوئے کہا کہ “اس معاہدے کی بدولت امریکا کو گرین لینڈ میں سیکیورٹی اور تمام دیگر امور پر دائمی کنٹرول حاصل ہوگیا ہے، جس سے امریکا کے تمام تحفظات دور ہو گئے ہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ جلد ہی گرین لینڈ کے مناسب حصے میں بڑی امریکی فوجی موجودگی کی توسیع پر کام شروع کر دیا جائے گا۔

امریکی صدر کے دعوؤں کے برعکس ڈینمارک کی وزیراعظم میٹ فریڈرکسن (Mette Frederiksen) اور گرین لینڈ کی حکومت کے سربراہ جینس فریڈرک نیلسن (Jens-Frederik Nielsen) نے اپنے بیانات میں واضح کیا ہے کہ یہ معاہدہ ڈینمارک کی خودمختاری اور گرین لینڈ کے عوام کے حقِ خودارادیت کا احترام کرتا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے اجلاس میں دستخط: تینوں ممالک کے سربراہان نیویارک میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی (UNGA) کے آئندہ اجلاس کے موقع پر اس معاہدے پر باقاعدہ دستخط کریں گے۔

معاہدے کے تحت امریکا کی تحریری اجازت کے بغیر کوئی بھی امریکی حریف ملک گرین لینڈ میں فوجی بیس یا حساس سرمایہ کاری نہیں کر سکے گا۔

گرین لینڈ کی قيادت نے اشارہ دیا کہ یہ معاہدہ نائٹو (NATO) کے تحت جاری سیکیورٹی تعاون کو مزید مضبوط بنائے گا، تاہم گرین لینڈ پر امریکی قبضے يا ملکیت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

نومبر میں ہونے والے امریکی مڈٹرم انتخابات سے قبل صدر ٹرمپ اس معاہدے کو ایک بڑی خارجہ پالیسی کی کامیابی کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔