واشنگٹن/نئی دہلی: امریکی ایوانِ نمائندگان نے روس کی توانائی کی آمدنی کو محدود کرنے اور یوکرین جنگ کے لیے ماسکو کے مالی وسائل روکنے کے لیے ایک سخت قانون سازی 159 کے مقابلے میں 262 ووٹوں سے منظور کر لی ہے۔ سینیٹ کی منظوری کے بعد یہ بل باقاعدہ دستخط کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھیج دیا گیا ہے۔
اس نئے قانون کے تحت امریکی صدر کو اختیار حاصل ہو جائے گا کہ وہ بھارت اور چین سمیت روس سے تیل و گیس خریدنے والے تمام ممالک کی امریکہ برآمد کی جانے والی مصنوعات پر 100 فیصد تک اضافی ٹیرف (Tariffs) عائد کر سکیں۔ اس کے علاوہ یہ قانون روس کے انرجی و ڈیفنس سیکٹر، اعلیٰ حکام اور پابندیوں سے بچنے والے “شیڈو فلیٹ” ٹینکرز کو بھی ہدف بناتا ہے۔
امریکی اقدام پر ردِعمل دیتے ہوئے بھارتی وزارتِ خارجہ نے واضح کیا ہے کہ وہ 1.4 ارب شہریوں کی توانائی کی ضروریات اور قومی مفاد پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ بھارت اپنے سپلائی کے ذرائع سے تیل خریدنے کی پالیسی جاری رکھے گا اور اس معاملے میں بھارتی صنعتوں کے تحفظ کے لیے تمام اقدامات کیے جائیں گے۔
کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے امریکی اقدام کو غیر دوستانہ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر صدر ٹرمپ نے اس قانون پر دستخط کیے تو اس سے روس یوکرین کے درمیان جاری امن مذاکرات مزید پیچیدہ اور تعطل کا شکار ہو سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ مالی سال 2026 میں بھارتی خام تیل کی مجموعی درآمدات کا تقریباً 30 فیصد حصہ روس سے آتا رہا ہے، اور دونوں ممالک نے روپے اور روبل کے ذریعے 96 فیصد تجارت کا نظام پہلے ہی بحال کر رکھا ہے۔




