ایٹلانٹا / واشنگٹن (ویب ڈیسک): امریکی محکمۂ داخلہ (DHS) اور امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) نے ریاست جارجیا کے شہر ایٹلانٹا میں ایک بڑا انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کرتے ہوئے 1200 سے زائد غیر قانونی تارکینِ وطن کو گرفتار کر لیا ہے۔ حکام کے مطابق گرفتار افراد میں سے 720 سے زائد ایسے افراد شامل ہیں جو سنگین جرائم میں ملوث، سزا یافتہ یا جن پر مقدمات درج تھے۔
امریکی نیوز چینل فوکس نیوز کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے ائس (ICE) کے ایگزیکٹو ایسوسی ایٹ ڈائریکٹر مارکوس چارلس (Marcos Charles) نے بتایا کہ ’آپریشن سیف کمیونٹی – ایٹلانٹا‘ (Operation Safe Community – Atlanta) کا بنیادی مقصد معاشرے اور گلی محلوں کو سنگین مجرموں سے پاک کرنا تھا۔
مارکوس چارلس نے انکشاف کیا کہ گرفتار افراد میں سے آدھے سے زیادہ کا مجرمانہ ریکارڈ موجود ہے۔ ان میں سے کئی افراد جنسی جرائم، گھریلو تشدد، بچوں پر تشدد، اقدامِ قتل اور شراب کے نشے میں ڈرائیونگ (DUI) جیسے جرمانہ کیسز میں ملوث تھے۔
آئس (ICE) کی رپورٹ کے مطابق جولائی کے مہینے میں پورے امریکہ میں 51,000 امیگریشن گرفتاریاں کی گئیں، جو کہ ایجنسی کی تاریخ میں ایک ماہ کے دوران ہونے والی گرفتاریوں کا اب تک کا سب سے بڑا ریکارڈ ہے۔ اس سے قبل جون کے مہینے میں 43,000 گرفتاریاں کی گئی تھیں۔
مارکوس چارلس کا کہنا تھا کہ احتجاجی مظاہروں اور گرفتاریوں میں رکاوٹ ڈالنے کی کوششوں کے بعد ائس نے اپنے آپریشنل طریقوں اور تربیت میں جدید تبدیلیاں کی ہیں۔
واضح رہے کہ یہ آپریشن ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب محکمہ داخلہ نے ائس افسران کو ملنے والی قتل کی دھمکیوں میں 8,000 فیصد اضافے کی رپورٹ جاری کی تھی، جبکہ چند ترقی پسند قانون ساز ایجنسی کی سخت پالیسیوں کی بنا پر ائس کو ختم کرنے کا مطالبہ بھی کر رہے ہیں۔





