لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00
ہیڈ لائنز

پاکستان،سعودی عرب اورترکیہ کےدرمیان سہ فریقی دفاعی معاہدہ “معاہدۂ مکہ”طےپاگیا

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

مکہ مکرمہ / اسلام آباد (ویب ڈیسک): پاکستان، مملکتِ سعودی عرب اور جمہوریہ ترکیہ نے ایک تاریخی اور دور رس پیش رفت کے تحت تاریخی سہ فریقی دفاعی معاہدے “معاہدۂ مکہ” (Makkah Joint Defense Pact) پر باقاعدہ دستخط کر دیے ہیں۔ اس معاہدے کی اہم ترین شق کے تحت کسی بھی ایک رکن ملک پر مسلح یا بیرونی حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

ترجمان دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان اور پاکستان کے وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے سعودی عرب کا دورہ کیا۔ سعودی ولی عہد اور وزیرِ اعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود نے مکہ مکرمہ کے قصر الصفا میں معزز مہمانوں کا استقبال کیا، جہاں “مکہ المکرمہ مشترکہ دفاعی سربراہی اجلاس” منعقد ہوا۔

سربراہی اجلاس کے بعد تینوں رہنماؤ‌ں نے مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔

اجتماعی دفاع (Collective Defense): معاہدے کا بنیادی مقصد تینوں ممالک کی اجتماعی دفاعی صلاحیت اور قابلِ اعتماد ‘ڈیٹرنس’ (Deterrence) کو مضبوط بنانا ہے۔ اگر کسی ایک ملک پر حملہ ہوا تو تینوں مشترکہ ردِعمل دیں گے۔

ترجمان دفترِ خارجہ نے واضح کیا کہ یہ معاہدہ مکمل طور پر دفاعی ہے، کسی ملک کے خلاف نہیں اور نہ ہی یہ کوئی “مسلم نیٹو” یا ایٹمی ضمانت ہے۔ یہ تنازعات کو روکنے اور خطے میں امن قائم کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔

یہ اتحاد پاکستان کی تجربہ کار عسکری قوت و اسٹریٹجک مہارت، سعودی عرب کے اقتصادی استحکام و مرکزی حیثیت، اور ترکیہ کی جدید ترین دفاعی ٹیکنالوجی و صنعتی صلاحیتوں کو یکجا کرتا ہے۔

معاہدے پر دستخط سے قبل مکہ مکرمہ میں ایک تاریخی منظر دیکھا گیا جہاں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان، وزیراعظم پاکستان شہباز شریف، ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان اور پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ایک ساتھ نمازِ جمعہ ادا کی۔ اس موقع پر امتِ مسلمہ کی خوشحالی، خطے کے امن و استحکام کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔

یہ معاہدہ پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے دہائیوں پر محیط تاریخی تعلقات، اسلامی اخوت اور مشترکہ اسٹریٹجک مفادات کی ایک مضبوط قانونی تحریر بن کر سامنے آیا ہے۔