اقوامِ متحدہ / نیویارک (ویب ڈیسک): پاکستان نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل (UNSC) کے اہم اجلاس میں دوٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر اور غیر ملکی تسلط کے تحت دیگر خطوں میں جاری ریاستی دہشت گردی (State Terrorism) کے خلاف عالمی برادری کی جانب سے عدم برداشت (Zero Tolerance) کی پالیسی ہونی چاہیے۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے 5 اگست 2026ء کو “دہشت گردانہ اقدامات سے بین الاقوامی امن و سلامتی کو درپیش خطرات” کے عنوان سے منعقدہ سلامتی کونسل کے بریفنگ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا۔
سفیر عاصم افتخار احمد نے عالمی برادری کو خبردار کرتے ہوئے زور دیا کہ “عالمی برادری کو اس بات کی ہرگز اجازت نہیں دینی چاہیے کہ وہ غیر ملکی تسلط کے خلاف اور خود ارادیت کے ناقابلِ تنسیخ حق کے لیے جدوجہد کرنے والے مظلوم عوام کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ اور جائز جدوجہد کو دبانے کے لیے ‘کاؤنٹر ٹیررازم’ (دہشت گردی کی مخالفت) کو ایک بہانے کے طور پر استعمال اور اس کا غلط استعمال کریں۔”
پاکستان کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب 5 اگست کے بھارتی یکطرفہ اقدامات کو 7 سال مکمل ہو چکے ہیں اور پاکستان عالمی فورمز پر مسلسل کشمیریوں کے حقِ خودارادیت اور ریاستی جبر کے خلاف آواز بلند کر رہا ہے۔
پاکستانی مندوب نے واضح کیا کہ دہشت گردی کے خلاف عالمی اقدامات کی آڑ میں حقِ خودارادیت کی قانونی جدوجہد کو نشانہ بنانا اقوامِ متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔





