کراچی (ویب ڈیسک): کراچی کے علاقے گلستانِ جوہر میں پراسرار طور پر ہلاک ہونے والے آئی بی اے (IBA) کے نوجوان گریجویٹ اور تاجر میر رضا علی کے والد حسین رضا نے بیٹے کی موت کو خودکشی قرار دینے کے تاثر کو مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے بیٹے کو بے دردی سے قتل کیا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق رضا علی 28 جولائی کی رات اپنی دکان سے گھر لوٹے اور پھر یہ کہہ کر دوبارہ نکلے کہ وہ 10 منٹ میں واپس آئیں گے، تاہم وہ لاپتا ہو گئے اور اگلے روز ان کی لاش گلستانِ جوہر کے بلاک 1 کی جھاڑیوں سے برآمد ہوئی۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مقتول کے والد حسین رضا نے سنسنی خیز انکشافات کرتے ہوئے کہا رضا علی کو پیچھے سے گولی ماری گئی تھی، جبکہ ان کا چہرہ، جسم اور فنگر پرنٹس جلائے گئے تھے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ ابتدائی میڈیکل رپورٹ میں صرف گولی کے زخم کا ذکر کیوں ہے اور جسم پر تشدد اور جلے ہوئے نشانات کو کیوں چھپایا گیا؟
انہوں نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ رضا علی 28 جولائی کی رات سے اگلے دن تک کہاں رہے اور ان 24 گھنٹوں میں ان کے ساتھ کیا ہوا؟
والد نے مزید بتایا کہ گھر سے نکلنے سے قبل رضا علی اپنی بہن سے بات کر کے گئے تھے اور وہ خوش تھے، حتیٰ کہ جس ٹیکسی میں وہ سوار ہوئے، اس کے ڈرائیور نے بھی تصدیق کی کہ رضا سفر کے دوران گانے گنگنا رہے تھے اور بالکل نارمل تھے۔ والد نے اعلیٰ حکام سے کیس کی شفاف اور اعلیٰ سطحی تحقیقات کی اپیل کی ہے۔
واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان نے ہائی پروفائل کیس کی تفتیش کے لیے 3 رکنی خصوص کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔
ایس ایس پی اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ (SIU) سامی اللہ سومرو،ایس ایس پی ڈسٹرکٹ ایسٹ زبیر نذیر شیخ اور ایس پی انویسٹی گیشن ایسٹ ون محمد عثمان سدوزئی شامل ہیں
ایڈیشنل آئی جی نے ٹیم کو روزانہ کی بنیاد پر پیشرفت رپورٹ جمع کروانے اور تمام وسائل کا استعمال کرتے ہوئے اصل حقائق سامنے لانے کی ہدایت کی ہے۔
دوسری جانب تفتیشی ذرائع کا کہنا ہے کہ رضا علی کے موبائل کا ڈیٹا اور فارنزک رپورٹ حاصل کر لی گئی ہے۔
3 کروڑ روپے کا قرض: موبائل ڈیٹا کے مطابق رضا علی مالی مشکلات کا شکار تھے اور انہوں نے 28 جولائی کی رات اپنے ایک دوست کو میسج کر کے 3 کروڑ روپے قرض مانگا تھا اور کہا تھا کہ وہ شدید مصیبت میں ہیں۔
ابتدائی تفتیش میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ حادثے سے قبل رضا علی نے ایک سیکیورٹی گارڈ کا اسلحہ لیا تھا۔
پولیس حکام کے مطابق اب تک 15 افراد کے بیانات قلمبند کیے جا چکے ہیں جن میں ٹیکسی ڈرائیور اور لاش کی اطلاع دینے والا شخص شامل ہے۔ حکام نے واضح کیا کہ اگر مقتول کا خاندان دوبارہ میڈیکل معائنہ (Re-postmortem) چاہتا ہے تو اس کا انتظام کیا جائے گا۔ فی الحال تفتیش جاری ہے کہ یہ خودکشی ہے یا قتل۔





