لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00

فرانس اورسپین میں جنگلات کی ہولناک آگ، آگ کےبےقابوہونےکی بنیادی وجوہات کیاہیں؟

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

پیرس / میڈرڈ: جنوبی اور مغربی یورپ کے جنگلات میں جلنے والی ہولناک آگ نے اس وقت تباہی مچا رکھی ہے، جس کے باعث فرانس اور سپین میں مجموعی طور پر 3 لاکھ 25 ہزار سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونا پڑا ہے۔

فرانس میں دوسری جنگِ عظیم کے بعد سے اب تک کی بدترین آتشزدگی دیکھی جا رہی ہے، جہاں رواں سال کے آغاز سے اب تک 1,15,000 ہیکٹر سے زیادہ رقبہ خاکستر ہو چکا ہے، جبکہ سپین میں یہ رقبہ 1,50,000 ہیکٹر سے تجاوز کر گیا ہے جو گزشتہ سال کے مقابلے میں چھ گنا زیادہ ہے۔

فرانس اور سپین میں فائر فائٹرز کے بہترین نظام کے باوجود حکام اس آگ پر قابو پانے میں کیوں ناکام ہو رہے ہیں؟ ماہرین اور عالمی رپورٹس نے اس کی درج ذیل بنیادی وجوہات کی نشاندہی کی ہے.

شدید ترین حرارت کی وجہ سے بادل بن رہے ہیں جن سے نکلنے والی بجلیاں اور اڑتی ہوئی چنگاریاں (Embers) بغیر بارش کے بھی نئے علاقوں میں آگ بھڑکا رہی ہیں۔ فرانسیسی فائر فائٹرز کے مطابق یہ صورتحال عسکری بمباری جیسی ہے۔

60 اور 80 کی دہائی میں بغیر پراپر سٹی پلاننگ اور پانی کی فراہمی کے بغیر تعمیر کیے گئے علاقے فائر فائٹنگ کی آپریشنل حکمتِ عملی میں شدید رکاوٹ بن رہے ہیں۔

یورپ میں درجہ حرارت عالمی اوسط سے دوگنا تیز رفتار (Fastest Warming Continent) سے بڑھ رہا ہے۔ حکومتوں کے “بدترین حالات” (Worst-Case Scenarios) کا ڈیٹا موسمیاتی تبدیلی کی موجودہ رفتار سے پیچھے رہ گیا ہے۔

فرانس: بورڈو (Bordeaux) شہر کے اندرونی حصوں تک آگ محض 15 کلومیٹر کے فاصلے پر پہنچ چکی ہے۔ کیپ فیرٹ (Cap Ferret) اور ژیروند کے ساحلی تفریحی مقامات سے 1,97,000 سے زائد سیاحوں اور رہائشیوں کا انخلا کرایا گیا ہے۔ عالمی شہرت یافتہ سائیکل ریس ٹور ڈی فرانس (Tour de France) کا فائنل سیکیورٹی فورسز کو آگ بجھانے کے کام میں لگانے کے باعث مختصر کر دیا گیا۔

سپین: اندلوسیہ، میڈرڈ، ٹولیڈو اور کاستیلون میں ہنگامی صورتحال نافذ ہے۔ اندلوسیہ میں 12 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے ملک میں سول پروٹیکشن ایمرجنسی نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے.

یورپی یونین (EU) کے سول پروٹیکشن میکانزم کے تحت اٹلی، یونان، پرتگال اور ترکیہ نے اپنے فائر فائٹنگ طیارے اور ملٹری اہلکار فرانس اور سپین کی مدد کے لیے روانہ کر دیے ہیں۔ تاہم، ماہرینِ ماحولیات کا خبردار کرنا ہے کہ جب تک کلائمیٹ چینج سے متعلق طویل مدتی پالیسیاں نہیں بنائی جاتیں، یہ تباہ کاریاں روکنا ممکن نہیں ہوگا۔