لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00

فرانس اورسپین میں تاریخ کی بدترین آتشزدگی، 3 لاکھ 25 ہزارافرادنقل مکانی پرمجبور

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

پیرس / میڈرڈ: فرانس اور سپین کے جنگلات میں تاریخ کی بدترین اور تباہ کن آتشزدگی نے تباہی مچادی ہے، جس کے باعث اب تک 3 لاکھ 25 ہزار سے زائد افراد اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ دوسری جانب فرانس کے مشہور شراب ساز خطے بورڈو (Bordeaux) اور ژیروند (Gironde) کے گرد شدید گرمی (Heatwave) کی نئی لہر کا الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔

فائر فائٹرز اور ہنگامی خدمات کی ٹیمیں فرانس کے جنوب مغرب اور سپین میں دارالحکومت میڈرڈ اور آویلا (Avila) کے قریب آگ کے شعلوں پر قابو پانے کے لیے مسلسل نبرد آزما ہیں۔

فرانس کی نیشنل فائر فائٹرز فیڈریشن (FNSPF) کے مطابق، آگ کے اس ہولناک سلسلے کے باعث ملک کی تاریخ میں پہلی بار ‘پائروکومولونمبس’ (Pyrocumulonimbus) نامی ایک انتہائی نایاب اور خطرناک فائر کلاؤڈ تشکیل پایا ہے۔ یہ بہت بڑا آتشیں بادل اپنی ہوا خود پیدا کرتا ہے اور اس سے کڑکنے والی بجلیاں مزید مقامات پر آگ بھڑکانے کا سبب بن رہی ہیں۔

سپین کے سول پروٹیکشن چیف نے آویلا کے گرد لگی آگ کو ایک “راکشس” سے تعبیر کرتے ہوئے بتایا کہ فائر فائٹرز 280 کلومیٹر طویل دائرے (Perimeter) اور 77,000 ہیکٹر (1,90,000 ایکڑ) رقبے پر پھیلی آگ کا مقابلہ کر رہے ہیں۔

مئی سے جاری خشک سالی اور مسلسل گرمی کی لہروں نے جنگلات کو بارود کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا، جس پر سائنسدانوں کے مطابق کلائمیٹ چینج کا براہِ راست اثر ہے۔

فرانس کے خطے ژیروند اور سپین میں میڈرڈ، آویلا، ٹولیڈو اور کاسٹیلون سے ہزاروں رہائشیوں اور سیاحوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔

فرانسیسی حکام نے ژیروند میں ہالیڈے کیمپس اور اسکاؤٹس ٹرپس پر پابندی عائد کر دی، جبکہ سپین کے شاہ فلپ ششم نے ہنگامی کیمپس کا دورہ کر کے قدرتی اثاثوں کے ناقابل تلافی نقصان پر تشویش ظاہر کی۔

اسپین کی وزارتی اطلاعات کے مطابق میڈرڈ اور ملحقہ علاقوں سے 75 ہزار کے قریب شہریوں کا انخلا کرایا گیا ہے۔ تیز ہواؤں کے باعث آگ کا رخ میڈرڈ کے جنوب کی جانب ہو گیا ہے جس سے مزید دیہات خالی کرائے جا رہے ہیں۔ ماہرینِ ماحولیات کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے اس طرح کی شدید موسمی آفات کی تعدد اور شدت میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔