لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00
ہیڈ لائنز

Iran to Hold Multi-City Memorials for Late Supreme Leader Khamenei

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

تہران (ویب ڈیسک): ایران نے اپنے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات اور تعزیتی تقریبات کا باضابطہ شیڈول جاری کر دیا ہے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق تعزیتی تقریبات کا آغاز 4 جولائی کو دارالحکومت تہران سے ہوگا، جبکہ 7 جولائی کو مذہبی شہر قم میں خصوصی تعزیتی تقریب منعقد کی جائے گی۔ آیت اللہ خامنہ ای کو 9 جولائی کو ان کے آبائی شہر مشہد میں سپردِ خاک کیا جائے گا۔

آیت اللہ علی خامنہ ای، جنہوں نے تین دہائیوں سے زائد عرصے تک اسلامی جمہوریہ ایران کی قیادت کی، رواں برس فروری میں ایران پر ہونے والے امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں کے دوران 86 برس کی عمر میں جاں بحق ہوئے تھے۔ ان کی وفات کے ساتھ ایران کی سیاسی تاریخ کے ایک طویل اور اثر انگیز دور کا اختتام ہو گیا۔

سیاسی سفر اور اقتدار کا عروج
آیت اللہ علی خامنہ ای 1989 میں اسلامی جمہوریہ ایران کے بانی آیت اللہ روح اللہ خمینی کے انتقال کے بعد ملک کے دوسرے سپریم لیڈر منتخب ہوئے۔ ابتدا میں انہیں نسبتاً کم معروف مذہبی شخصیت تصور کیا جاتا تھا، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ انہوں نے ریاستی اداروں پر اپنی گرفت مضبوط کی اور ایرانی نظامِ حکومت میں سب سے طاقتور شخصیت بن کر ابھرے۔

سپریم لیڈر کی حیثیت سے وہ مسلح افواج کے سربراہ تھے اور عدلیہ، سیکیورٹی اداروں، سرکاری میڈیا اور دیگر اہم ریاستی اداروں پر فیصلہ کن اثر و رسوخ رکھتے تھے۔

خارجہ پالیسی اور علاقائی کردار
آیت اللہ خامنہ ای کے دورِ حکومت کی نمایاں خصوصیت امریکہ اور اسرائیل کے خلاف سخت مؤقف تھا۔ ان کی قیادت میں ایران نے مشرقِ وسطیٰ میں اپنے اثر و رسوخ کو وسعت دی اور لبنان، عراق، شام اور یمن میں اتحادی گروپوں کی حمایت جاری رکھی۔

انہوں نے حزب اللہ، حماس اور یمن کے حوثی گروپ کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنایا، جبکہ ایران نے اس حکمت عملی کو “محورِ مزاحمت” کا نام دیا، جس کا مقصد خطے میں امریکی اور اسرائیلی اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنا تھا۔

جوہری پروگرام اور مغرب سے تعلقات
ان کے دور میں ایران کا جوہری پروگرام عالمی سیاست کا اہم موضوع بنا رہا۔ آیت اللہ خامنہ ای نے 2015 کے جوہری معاہدے کی حمایت کی تھی، جس کے تحت ایران نے اپنی جوہری سرگرمیوں پر بعض پابندیاں قبول کیں جبکہ عالمی طاقتوں نے اقتصادی پابندیوں میں نرمی کی۔

تاہم 2018 میں امریکہ کے معاہدے سے دستبردار ہونے اور ایران پر دوبارہ پابندیاں عائد کرنے کے بعد تہران اور واشنگٹن کے تعلقات مزید کشیدہ ہو گئے تھے۔

ابتدائی زندگی
آیت اللہ علی خامنہ ای 1939 میں مشہد میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے کم عمری میں مذہبی تعلیم حاصل کی اور 1979 کے اسلامی انقلاب سے قبل شاہِ ایران کی حکومت کے خلاف سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لیا۔ انقلاب کے بعد وہ مختلف اہم سرکاری عہدوں پر فائز رہے، جن میں ایران کے صدر کا منصب بھی شامل تھا، اور بعد ازاں ملک کے اعلیٰ ترین منصب، سپریم لیڈر، تک پہنچے۔