ٹک ٹاک (TikTok) کی بانی کمپنی ‘بائٹ ڈانس’ (ByteDance) کے مالک زہانگ یمنگ (Zhang Yiming) بھارت کے کھرب پتی تاجر مکیش امبانی کو پیچھے چھوڑ کر ایشیا کے دوسرے امیر ترین شخص بن گئے ہیں۔
بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق، بائٹ ڈانس کے شیئرز کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافے اور کمپنی کی آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) ٹیکنالوجی میں تیزی سے پیش رفت نے زہانگ کی دولت میں غیر معمولی اضافہ کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، زہانگ یمنگ کی دولت میں محض ایک ہی دن میں 24.1 ارب ڈالر کا حیران کن اضافہ ہوا، جس کے بعد ان کے کل اثاثوں کی مالیت 92.8 ارب ڈالر ہو گئی ہے۔ اس تاریخی جست کے ساتھ وہ دنیا کے 21 ویں اور ایشیا کے دوسرے امیر ترین انسان بن گئے ہیں۔ رواں سال اب تک ان کی دولت میں مجموعی طور پر 27.7 ارب ڈالر کا اضافہ ہو چکا ہے۔ بائٹ ڈانس کا اے آئی چیٹ بوٹ ‘ڈوباؤ’ (Doubao) بھی دنیا بھر میں مقبول ہو رہا ہے جس کے صارفین کی تعداد 300 ملین (30 کروڑ) سے تجاوز کر چکی ہے۔
دوسری جانب، بھارت کے مکیش امبانی کے لیے یہ سال نقصان دہ ثابت ہوا ہے، جنہیں اب تک 20.8 ارب ڈالر کا گھاٹا اٹھانا پڑا ہے۔ امبانی اب 86.9 ارب ڈالر کے اثاثوں کے ساتھ ایشیا میں تیسرے اور دنیا میں 25 ویں نمبر پر آ گئے ہیں۔ تاہم، بھارت ہی کے گوتم اڈانی 117 ارب ڈالر کے اثاثوں کے ساتھ اب بھی ایشیا کے امیر ترین اور دنیا کے 17 ویں امیر ترین شخص کے طور پر اپنی پوزیشن برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
زہانگ یمنگ کی ذاتی زندگی اور کامیابی کا سفر:
1983 میں چین کے صوبے فیوجیان میں پیدا ہونے والے 43 سالہ زہانگ یمنگ کا نام ایک چینی کہاوت پر رکھا گیا ہے جس کا مطلب ہے “پہلی ہی کوشش میں سب کو حیران کر دینے والا”۔ انہوں نے 2005 میں نانکائی یونیورسٹی سے سافٹ ویئر انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی اور اسی سال شادی بھی کی۔
زہانگ کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز ایک جونیئر انجینئر کے طور پر کیا تھا لیکن اپنی محنت اور ذمہ داری کے احساس کی بدولت وہ محض دو سال میں 50 لوگوں کی ٹیم کو ہیڈ کرنے لگے۔ وہ چین اور ایشیا کے امیر ترین افراد میں شامل ہونے کے باوجود انتہائی سادہ، نجی اور لو-پروفائل زندگی گزارنے کے لیے مشہور ہیں۔
