تہران(ویب ڈیسک): ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکہ کے ساتھ کسی بھی قسم کے دباؤ والے مذاکرات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ دھمکیوں کے سائے میں بات چیت ناقابل قبول ہے۔
سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں قالیباف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ سفارتی میز کو “خود سپردگی کی میز” میں بدلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی اور فائر بندی کی خلاف ورزی کر کے واشنگٹن بڑی غلط فہمی کا شکار ہے۔ ان کے بقول، ایران کو طاقت کے زور پر جھکایا نہیں جا سکتا اور تہران نے کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط کر لیا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے تہران میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے امریکی تجاویز کو “غیر حقیقی” قرار دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران کے ایٹمی مواد کی بیرون ملک منتقلی کبھی بھی مذاکرات کا حصہ نہیں رہی اور نہ ہی اس پر کوئی سمجھوتہ ہوگا۔ انہوں نے امریکہ پر فائر بندی کی خلاف ورزی کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں مزید مذاکرات کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔
نائب وزیر خارجہ سعید خطیب زادہ کا کہنا تھا کہ اگرچہ واشنگٹن ماضی میں فوجی آپشنز آزما چکا ہے، لیکن سفارت کاری ہی واحد حل ہے۔ تاہم، انہوں نے شرط عائد کی کہ امریکہ کو اپنے حد سے بڑھے ہوئے مطالبات کم کرنے ہوں گے اور ایرانی عوام کے حقوق کا احترام کرنا ہوگا۔





