امریکی ٹرمپ انتظامیہ ملک میں امیگریشن قوانین کے حوالے سے ایک اور بڑا اور سخت اقدام اٹھانے کی تیاری کر رہی ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ بی ون (B1) اور بی ٹو (B2) ویزا ہولڈرز کے 2 لاکھ ویزے منسوخ کرنے پر غور کر رہا ہے، جسے اگر حتمی شکل دے دی گئی تو یہ امریکی تاریخ میں ویزوں کی سب سے بڑی اجتماعی منسوخی شمار ہوگی۔
‘ایسوسی ایٹڈ پریس’ کی رپورٹ اور امریکی محکمہ خارجہ کی جاری کردہ دستاویزات کے مطابق اس کارروائی میں ان غیر ملکیوں کے ویزے منسوخ کیے جائیں گے جو 2016ء سے 2026ء کے درمیان کاروباری (B1) یا سیاحتی و طبی علاج (B2) کے ویزے پر امریکہ آئے اور بعد میں سیاسی پناہ (Asylum) کی درخواستیں دائر کر دیں۔
اس عمل میں امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی بھی محکمہ خارجہ کے ساتھ مکمل تعاون کر رہا ہے۔
امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ عارضی سیاحتی یا کاروباری ویزوں کو امریکہ میں مستقل قیام اور پناہ حاصل کرنے کے لیے قانونی راستے کی خلاف ورزی کے طور پر استعمال نہیں ہونا چاہیے۔
امریکی حکام نے وضاحت کی ہے کہ ویزا کی منسوخی کا مطلب فوری طور پر ملک بدری نہیں ہوگا۔ جن افراد کی پناہ کی درخواستیں التواء میں ہیں، ان کا ٹورسٹ یا بزنس ویزا ختم ہو جائے گا جس سے ان کی غیر ملکی قانونی حیثیت پر اثر پڑے گا۔
رپورٹس کے مطابق گزشتہ 18 ماہ کے دوران امریکی محکمہ خارجہ سنگین جرائم میں ملوث یا مخصوص تنازعات کا شکار تقریباً 1,75,000 ویزے پہلے ہی منسوخ کر چکا ہے۔ اس نئی ممکنہ کارروائی کو قانونی ماہرین کی جانب سے امریکی عدالتوں میں چیلنج کیے جانے کا قوی امکان ہے۔





