لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00
ہیڈ لائنز

نیویارک میں مادوروپرمقدمہ اورتیل کے ذخائرپرقبضےکامعاہدہ

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

واشنگٹن : گزشتہ صدی کے وسط میں لکھے گئے امریکی محکمہ خارجہ کی ایک خفیہ یادداشت میں کہا گیا تھا کہ “واشنگٹن اور کاراکاس کو ایک دوسرے سے جوڑنے والی سب سے بڑی وجہ تیل ہے اور ہمیشہ رہے گی۔” دہائیوں بعد، آج بھی یہی صورتحال نظر آ رہی ہے۔

سابق صدر ن Nicolas Maduro (نیکولس مادورو) کی امریکی فورسز کے ہاتھوں گرفتاری اور نیویارک منتقل کیے جانے کے بعد، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ نے وینزویلا کے مجموعی تیل کے ذخائر کے پانچویں حصے پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ وائٹ ہاؤس نے اس پیش رفت کو “دنیا کی تاریخ کا سب سے بڑا ائل ڈیل” قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ اس سے آئندہ صدی کے لیے امریکی توانائی کی اجارہ داری قائم ہو جائے گی۔

وینزویلا دنیا میں خام تیل کے سب سے بڑے ذخائر کا حامل ملک ہے۔ دوسری جنگِ عظیم کے دوران اتحادی افواج کے جہازوں اور ٹینکوں کے لیے ایندھن فراہم کرنے سے لے کر 1990ء کی دہائی تک امریکی اور وینزویلا کے تعلقات تیل کی معیشت کے گرد گھومتے رہے۔

ہوگو چاویز کے اقتدار میں آنے کے بعد تعلقات میں کشیدگی آئی۔ 2007ء میں چاویز نے امریکی ائل کمپنیوں کے فیلڈز کو قومی ملکیت میں لے لیا۔ ‘ایکسون موبل’ (ExxonMobil) اور ‘کونوکو فلپس’ (ConocoPhillips) جیسی بڑی کمپنیوں کو نکال دیا گیا، جبکہ صرف ‘شیورون’ (Chevron) محدود شرائط پر کام کرتی رہی۔

2013ء میں چاویز کے انتقال کے بعد نیکولس مادورو اقتدار میں ائے۔ ان کے دور میں امریکہ نے وینزویلا پر سخت اقتصادی پابندیاں عائد کیں جبکہ مادورو نے چین، روس اور ایران کے ساتھ گہرے تعلقات قائم کر لیے۔

امریکہ نے مادورو حکومت کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ان پر منشیات کی اسمگلنگ کا الزام لگایا اور جولائی میں ان کی گرفتاری پر 50 ملین ڈالر کا انعام مقرر کیا۔ حتمی اقدام کے طور پر امریکی فورسز نے کاراکاس میں کارروائی کرتے ہوئے مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلوریس کو گرفتار کر لیا، جن پر اب نیویارک میں مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔

وینزویلا کی قائم مقام صدر ڈیلسی روڈریگز (Delcy Rodríguez) نے ابتدائی طور پر اس کارروائی کو اغوا قرار دیا تھا، تاہم اب وہ واشنگٹن کے ساتھ کام کرنے پر رضامند ہو چکی ہیں۔

وینزویلا کے نامور ماہرینِ اقتصادیات اور فرانسسکو روڈریگز نے اس معاہدے کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے “بندوق کی نوک پر کی گئی لوٹ مار” قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق امریکہ وینزویلا کو ایک غیر معلنہ نوآبادی (Protectorate) بنا رہا ہے، اور تاریخ گواہ ہے کہ کسی دوسرے ملک کی سرزمین کو اپنی دارالحکومت سے چلانے کی کوششیں کبھی کامیاب نہیں ہوئیں۔