لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00
ہیڈ لائنز

US Sets New Borrowing Limits and Repayment Options for Students

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

واشنگٹن(ویب ڈیسک): امریکی محکمہ تعلیم نے طلبہ کے قرضوں کی واپسی کے طریقہ کار میں ایک بڑی تبدیلی کا اعلان کیا ہے۔ بائیڈن دور کے مقبول SAVE Repayment Plan کو عدالت کی جانب سے ختم کیے جانے کے بعد، اب لاکھوں قرض داروں کو اگست کے آخر تک اس پروگرام سے نکلنا ہوگا۔

ٹرمپ انتظامیہ کی نئی پالیسی کے تحت، یکم جولائی سے کئی پرانے انکم ڈریون ری پیمنٹ (IDR) پلانز تک رسائی ختم کر دی جائے گی اور ان کی جگہ نئے منصوبے متعارف کرائے جائیں گے۔

محکمہ تعلیم کے مطابق، جو قرض دار جولائی کے آغاز تک SAVE پلان میں رہیں گے، انہیں 90 دن کا نوٹس دیا جائے گا تاکہ وہ اپنی پسند کا نیا پلان منتخب کر سکیں، بصورتِ دیگر انہیں خودکار طریقے سے نئے نظام میں منتقل کر دیا جائے گا۔

Repayment Assistance Plan (RAP): یہ نیا پلان یکم جولائی سے شروع ہوگا، جس میں ماہانہ ادائیگیوں کا تعین قرض دار کی آمدنی اور اس پر منحصر افراد (Dependents) کی تعداد کی بنیاد پر کیا جائے گا۔

Tiered Standard Plan: اس پلان کے تحت قرض کی واپسی کے لیے 10 سے 25 سال تک کی فکسڈ مدت دی جائے گی۔ اگر کوئی طالب علم نیا پلان منتخب نہیں کرتا، تو اسے اسی پلان میں شامل کر دیا جائے گا۔

ٹرمپ انتظامیہ نے اس موسمِ گرما سے تعلیمی قرضوں کی حد بھی مقرر کر دی ہے.

گریجویٹ طلبہ سالانہ زیادہ سے زیادہ $20,500 کا وفاقی قرض لے سکیں گے۔

پروفیشنل پروگرامز (ڈاکٹر/وکیل) کے لیے سالانہ حد $50,000 مقرر کی گئی ہے۔

انڈر سیکرٹری ایجوکیشن نکولس کینٹ کا کہنا ہے کہ “انتظامیہ کی پالیسی سادہ ہے: اگر آپ نے قرض لیا ہے، تو اسے واپس کرنا ہوگا۔” دوسری جانب ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ محکمہ تعلیم کے عملے میں کمی اور درخواستوں کے بڑے بیک لاگ (Backlog) کی وجہ سے اس منتقلی میں مشکلات آ سکتی ہیں۔