واشنگٹن: امریکا میں Donald Trump کی انتظامیہ نے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے غیر ملکی ڈاکٹروں کی امیگریشن درخواستوں پر عائد پابندیوں میں جزوی نرمی کرتے ہوئے ویزا اور گرین کارڈ کیسز پر دوبارہ کارروائی شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس فیصلے سے خصوصاً اُن غیر ملکی معالجین کو عارضی ریلیف ملا ہے جو امریکی اسپتالوں، دیہی علاقوں اور طبی سہولیات سے محروم خطوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے گزشتہ برس ایران، افغانستان، وینزویلا سمیت متعدد ممالک کے شہریوں کی گرین کارڈ اور ویزا درخواستوں کی پروسیسنگ معطل کر دی تھی۔ امریکی حکومت کا مؤقف تھا کہ قومی سلامتی کے پیشِ نظر درخواست گزاروں کی سخت جانچ پڑتال ضروری ہے، تاہم امیگریشن ماہرین اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس اقدام کو قانونی تارکین وطن کے لیے مشکلات میں اضافے کے مترادف قرار دیا۔
پابندیوں سے متاثر ہونے والوں میں ڈاکٹرز، سائنسدان، محققین اور کاروباری شخصیات بھی شامل ہیں، جن میں سے کئی افراد ملازمت، ہیلتھ انشورنس اور ڈرائیونگ لائسنس جیسی بنیادی سہولیات سے محروم ہو گئے تھے۔
دوسری جانب ایرانی طلبہ اور محققین نے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران میں جاری کشیدگی اور انٹرنیٹ بندش کے باعث وہ اپنے اہل خانہ سے رابطہ کرنے میں دشواری کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ امریکا میں ان کی قانونی اور پیشہ ورانہ حیثیت بھی غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے۔
ماہرین کے مطابق ویزا پابندیوں میں یہ نرمی امریکی صحت کے شعبے کے لیے اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے، کیونکہ ملک کے کئی دیہی اور کم سہولت یافتہ علاقوں میں غیر ملکی ڈاکٹرز طبی نظام کا اہم حصہ تصور کیے جاتے ہیں۔
