US Military Veteran Raises Fresh Questions About Alien-Like UFO Activity

انہوں نے 'ایلین' یا 'ایکسٹرا ٹیرسٹریل' کے بجائے 'غیر انسانی ذہانت' کی اصطلاح استعمال کرنے پر زور دیا کیونکہ ان کی اصل اور نوعیت اب بھی ایک معمہ ہے۔

Editor News

واشنگٹن: امریکہ میں غیر شناخت شدہ اڑن اشیاء (UFOs/UAPs) کے حوالے سے بحث ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔ اس بار یہ دعویٰ کسی عام شہری کی جانب سے نہیں بلکہ امریکی بحریہ کے ریٹائرڈ ریئر ایڈمرل ٹم گیلادیت (Tim Gallaudet) کی طرف سے سامنے آیا ہے، جنہوں نے انکشاف کیا ہے کہ یہ اشیاء غالباً ‘غیر انسانی ذہانت’ (Non-Human Intelligence) کے زیرِ اثر ہیں۔

غیر انسانی ذہانت کا کنٹرول
ایک حالیہ انٹرویو میں ایڈمرل گیلادیت نے کہا کہ اگرچہ انہوں نے خود کبھی کسی خلائی مخلوق کو نہیں دیکھا، لیکن وہ ایسے ڈیٹا اور ویڈیوز سے واقف ہیں جو یہ ثابت کرتے ہیں کہ ان کرافٹس کی نقل و حرکت انتہائی جدید اور ذہین کنٹرول میں ہے۔ انہوں نے ‘ایلین’ یا ‘ایکسٹرا ٹیرسٹریل’ کے بجائے ‘غیر انسانی ذہانت’ کی اصطلاح استعمال کرنے پر زور دیا کیونکہ ان کی اصل اور نوعیت اب بھی ایک معمہ ہے۔

حیرت انگیز ٹیکنالوجی
ایڈمرل نے خاص طور پر ان اشیاء کے سمندر اور فضا کے درمیان بغیر کسی رکاوٹ کے سفر کرنے کا ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا، “میں نے ایسی ویڈیوز دیکھی ہیں جہاں یہ اشیاء سمندر کی سطح کو متاثر کیے بغیر انتہائی تیز رفتاری سے پانی سے فضا اور فضا سے پانی میں داخل ہوتی ہیں۔ ہمارے پاس ایسی کوئی ٹیکنالوجی نہیں جو یہ کر سکے۔”

حکومتی اعتراف اور سنجیدگی
ایڈمرل گیلادیت کے اس بیان نے یو ایف او کے موضوع کو مزید سنجیدہ بنا دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی نہ تو امریکہ کی ہے اور نہ ہی اس کے کسی دشمن ملک کی، جس سے صرف ایک ہی نتیجہ نکلتا ہے کہ ان کے پیچھے کوئی ایسی طاقت ہے جو انسانی نہیں ہے۔

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *