لندن / واشنگٹن (رائٹرز): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ان تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی، جن پر امریکا جبری مشقت (Forced Labour) اور جدید غلامی کو روکنے میں ناکامی کا الزام لگاتا ہے، عالمی سطح پر شدید تنقید کی زد میں آ گئی ہے۔
ماہرین، کاروباری تنظیموں اور انسانی حقوق کے گروپوں کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے جدید غلامی کے خاتمے میں کوئی مدد نہیں ملے گی، بلکہ صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔
اپنی تازہ ترین تجارتی کارروائی میں، ٹرمپ انتظامیہ نے دنیا کے 60 ممالک سے درآمد کی جانے والی اشیاء پر 10% سے 12.5% تک اضافی ڈیوٹی (ٹیرف) لگانے کی تجویز پیش کی ہے۔
امریکی تجارتی نمائندے (USTR) کے دفتر کی جانب سے یہ منصوبہ ‘سیکشن 301’ کے تحت کی جانے والی اس تحقیقات کے بعد سامنے آیا ہے، جس کا مقصد فروری میں امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے مسترد کیے جانے والے صدر ٹرمپ کے ‘ایمرجنسی ٹیرف’ کو دوسرے راستے سے دوبارہ نافذ کرنا ہے۔ امریکی تجارتی شراکت داروں نے ان الزامات کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔
شپمنٹ کی ڈیجیٹل جانچ پڑتال کرنے والے پلیٹ فارم ‘پبلیکن’ کے سی ای او رام بین تزیون نے واضح الفاظ میں کہا، “اس نئے اقدام کا جبری مشقت کے خاتمے سے کوئی تعلق نہیں ہے، یہ صرف تجارتی ٹیرف لگانے کا ایک نیا سیاسی بہانہ ہے۔”
ہیومن رائٹس واچ (HRW) کی سینیئر ایڈووکیٹ ہیلین ڈی رینجرو نے بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ٹیرف بیجنگ کے سنکیانگ خطے یا شمالی کوریا میں ریاستی سطح پر جاری بدترین جبری مشقت کو نشانہ بنانے کے بجائے تجارتی حجم اور جغرافیائی سیاست کو دیکھ کر لگائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس سے متعلقہ ممالک میں سیاسی مزاحمت بڑھے گی اور یہ اقدام الٹا نقصان دہ (Counterproductive) ثابت ہو سکتا ہے۔
بین الاقوامی لیبر آرگنائزیشن (ILO) کے حالیہ تخمینوں کے مطابق، اس وقت دنیا بھر میں 2 کروڑ 76 لاکھ افراد جبری مشقت کا شکار ہیں، جس میں 2016ء سے اب تک 27 لاکھ کا اضافہ ہوا ہے۔ نجی معیشت میں جبری مشقت کے تقریباً نصف کیسز برآمدات سے وابستہ شعبوں جیسے مینوفیکچرنگ، تعمیرات، زراعت، ماہی گیری اور کان کنی میں پائے جاتے ہیں۔
امریکا کی جانب سے اپنے سب سے بڑے تجارتی شراکت دار ‘یورپی یونین’ کو نشانہ بنانے پر خاصی لے دے ہو رہی ہے۔ امریکی رپورٹ میں یورپی یونین کے دسمبر 2027ء سے لاگو ہونے والے جبری مشقت کے قانون کو کمزور قرار دیا گیا ہے، جسے قانون دانوں اور ماہرین نے مسترد کر دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جرمنی اور فرانس جیسے یورپی ممالک نے پہلے ہی اپنے سخت قوانین بنا رکھے ہیں اور یورپی یونین کا قانون دنیا بھر کی ان تمام مصنوعات پر پابندی لگاتا ہے جن میں جبری مشقت استعمال ہوئی ہو، اس لیے یہ امریکی قانون سے زیادہ جامع ہے۔ انٹرنیشنل چیمبر آف کامرس کے ڈپٹی سکرٹری جنرل اینڈریو ولسن نے ٹرمپ انتظامیہ کے ان ٹیرف کو ‘من مانی’ (Arbitrary) قرار دیتے ہوئے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
یورپی کمیشن نے ان ٹیرف کو مکمل طور پر بلا جواز قرار دیتے ہوئے واشنگٹن کے ساتھ گزشتہ سال ہونے والے اس تجارتی معاہدے کی یاد دہانی کرائی ہے جس کے تحت یورپی اشیاء پر امریکی ٹیرف کی حد 15 فیصد مقرر کی گئی تھی۔
دوسری جانب، انسانی حقوق کی تنظیم ‘واک فری’ (Walk Free) نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ امریکا خود بھی جدید غلامی کی گرفت میں موجود دنیا کے ٹاپ 10 ممالک میں شامل ہے۔
