واشنگٹن (ویب ڈیسک): اگر صرف سرکاری اعداد و شمار کو دیکھا جائے تو امریکی جاب مارکیٹ اس وقت بہترین حالت میں نظر آتی ہے۔ بے روزگاری کی شرح محض 4.3 فیصد ہے، جو پچھلے 10 سالوں کی اوسط (4.6%) اور 50 سالوں کی اوسط (6.1%) سے بھی کم ہے
مسلسل دوسرے مہینے بھی نئی ملازمتوں کی تعداد نے ماہرینِ اقتصادیات کی توقعات کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ لیکن، ان تمام اچھے اعداد و شمار کے باوجود، عام لوگوں کے لیے نوکری حاصل کرنا اب پہلے سے کہیں زیادہ مشکل ہو چکا ہے۔
ماہرین کے مطابق، اس تضاد کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ نئی پیدا ہونے والی ملازمتیں مخصوص شعبوں تک محدود ہیں اور جاب مارکیٹ میں مسابقت (Competition) حد سے زیادہ بڑھ چکی ہے۔
لینکڈ ان (LinkedIn) کے چیف اکانومسٹ کوری کانٹینگا کا کہنا ہے کہ “جب ہم روزگار کے سرکاری اعداد و شمار کو دیکھتے ہیں، تو وہ اس تلخ حقیقت کی عکاسی نہیں کرتے جس کا سامنا آج جاب مارکیٹ میں عام لوگوں کو کرنا پڑ رہا ہے۔”
آج کل نوکری کے متلاشی افراد کو کن بڑے چیلنجز کا سامنا ہے؟ آئیے ان پر ایک نظر ڈالتے ہیں:
1. نئی ملازمتیں سب کے لیے نہیں ہیں
اپریل کے مہینے میں سامنے آنے والی نئی ملازمتوں میں سے آدھی صرف ہیلتھ کیئر (صحت) کے شعبے میں تھیں، جبکہ باقی آدھی ریٹیل، ٹرانسپورٹیشن اور ویئر ہاؤسنگ (گوداموں) کے شعبوں تک محدود تھیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر شخص کوریئر یا ڈیلیوری بوائے کی نوکری نہیں کرنا چاہتا، اور ریٹیل کی یہ نوکریاں مستقل بھی نہیں ہیں کیونکہ ان پر آٹومیشن (مشینوں) کے متبادل کا خطرہ ہمیشہ منڈلاتا رہتا ہے۔
2. ‘ڈوج’ (Doge) کے تحت برطرفیوں کا اثر
حکومتی اخراجات میں کمی کے لیے قائم کردہ ڈیپارٹمنٹ آف گورنمنٹ ایفیشنسی (DOGE) کی جانب سے کی جانے والی کٹوتیوں کے باعث 2024 کے مقابلے میں وفاقی ملازمتوں میں تقریباً 3 لاکھ 50 ہزار کی کمی واقع ہوئی ہے۔ ان برطرفیوں کے نتیجے میں فارغ ہونے والے اعلیٰ تعلیم یافتہ سرکاری ملازمین اب پرائیویٹ اور لوکل گورنمنٹ کی جاب مارکیٹ کا رخ کر رہے ہیں، جس سے نئے گریجویٹس کے لیے مقابلے کی فضا انتہائی سخت ہو گئی ہے۔ دوسری طرف، وائٹ ہاؤس کے ترجمان کُش دیسائی کا کہنا ہے کہ موجودہ انتظامیہ سرکاری بیساکھیوں کے بجائے نجی شعبے میں پائیدار ترقی کے ایجنڈے پر کام کر رہی ہے۔
3. آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کا بڑھتا ہوا استعمال
اے آئی (AI) جاب مارکیٹ کو دو طرفہ نقصان پہنچا رہا ہے۔ ایک طرف تو ٹیکنالوجی اور فنانس جیسے شعبوں میں کمپنیاں اے آئی کی وجہ سے ملازمین کی کٹوتیاں کر رہی ہیں، تو دوسری طرف اب امیدوار اے آئی ٹولز کے ذریعے ایک وقت میں سینکڑوں کی تعداد میں سی وی (CV) بھیج رہے ہیں۔ اس کی وجہ سے کمپنیوں کے ہائرنگ سسٹمز پر درخواستوں کا ایک ایسا سیلاب آ گیا ہے کہ حقیقی اور قابل امیدواروں کی فائلیں نیچے دب جاتی ہیں۔
4. اعلیٰ تعلیمی ڈگریوں کا بے اثر ہونا
ماضی میں سمجھا جاتا تھا کہ ماسٹرز یا پی ایچ ڈی جیسی اعلیٰ ڈگریاں نوکری کے حصول کو آسان بنا دیتی ہیں، لیکن اب ایسا نہیں رہا۔ 2023 میں جب مارکیٹ سست ہوئی، تو بہت سے لوگوں نے وقت بچانے کے لیے اعلیٰ ڈگریاں حاصل کرنا شروع کر دیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ اب مارکیٹ میں ایڈوانس ڈگری ہولڈرز کی بھرمار ہے، اور آئی ٹی و فنانس جیسے بڑے سیکٹرز میں ہائرنگ پہلے ہی سست ہو چکی ہے۔
5. عمر رسیدہ امیدواروں کے لیے طویل انتظار
بیورو آف لیبر اسٹیٹسٹکس (BLS) کے ڈیٹا کے مطابق، 45 سے 54 سال کی عمر کے برطرف ملازمین کو اب نئی نوکری تلاش کرنے میں اوسطاً 30.7 ہفتے لگ رہے ہیں، جبکہ چار سال پہلے یہ مدت 27.1 ہفتے تھی۔ اس کے مقابلے میں 35 سے 44 سال کے افراد اوسطاً 24.6 ہفتوں میں نوکری حاصل کر لیتے ہیں۔ مڈ کیریئر پروفیشنلز کے لیے طویل عرصے بعد دوبارہ جاب مارکیٹ میں انٹرویوز کے مراحل سے گزرنا ایک مشکل امتحان بن چکا ہے۔
