لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00
ہیڈ لائنز

75ممالک ویزاپروسیسنگ کی معطلی کی پالیسی کالعدم،پاکستانیوں اوربنگلہ دیشیوں کو بڑاریلیف

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

نیویارک / واشنگٹن: امریکی وفاقی عدالت نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے پاکستان اور بنگلہ دیش سمیت 75 ممالک کے شہریوں کے لیے امیگرنٹ ویزا پروسیسنگ معطل کرنے کی پالیسی کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔

مین ہٹن میں امریکی ڈسٹرکٹ جج جینیٹ ورگاس (Jeannette Vargas) نے جمعہ کے روز اپنے اہم فیصلے میں قرار دیا کہ یہ پالیسی سیکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو (Marco Rubio) کے قانونی اختیارات سے تجاوز کرتی ہے اور وفاقی امیگریشن قوانین سے براہ راست تصادم میں ہے۔

عدالت کا سخت موقف: جج جینیٹ ورگاس نے ویزا معطلی کی اس پالیسی کو “واضح طور پر غیر قانونی” (patently unlawful) قرار دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی قانون سیکریٹری آف اسٹیٹ کو یہ اختیار نہیں دیتا کہ وہ محض قومیت کی بنیاد پر تمام درخواست دہندگان پر اجتماعی طور پر ویزا پروسیسنگ کی پابندی عائد کریں۔

ٹرمپ انتظامیہ نے رواں سال جنوری میں جنوب ایشیائی ممالک (پاکستان اور بنگلہ دیش)، لاطینی امریکہ (برازیل، کولمبیا)، بلقان، افریقہ، مشرق وسطیٰ اور کیریبین کے 75 ممالک پر یہ معطلی عائد کی تھی۔

محکمہ خارجہ کا مؤقف تھا کہ ان ممالک کے درخواست دہندگان کے پاس امریکہ میں حکومت یا عوام پر معاشی بوجھ (Public Charge) بننے کا شدید خطرہ ہوتا ہے۔

یہ مقدمہ امیگرنٹ رائٹس گروپس ‘کیتھولک لیگل امیگریشن نیٹ ورک’ اور ‘افریقن کمیونٹیز ٹوگیدر’ کی جانب سے دائر کیا گیا تھا، جس میں امریکی شہری اور ان کے خاندان کے متاثرہ افراد شامل تھے۔