واشنگٹن: مشرقِ وسطیٰ میں تیزی سے بڑھتی ہوئی کشیدگی اور سیکورٹی حالات کے پیشِ نظر امریکا نے دنیا بھر میں موجود اپنے شہریوں کے لیے ایک ہنگامی ‘عالمی سفری انتباہ (Global Travel Advisory) جاری کر دیا ہے، جس میں انہیں غیر معمولی احتیاط برتنے کی تاکید کی گئی ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ (اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ) کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ ہدایت نامے میں کہا گیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ سکیورٹی صورتحال انتہائی پیچیدہ ہے اور خطے میں مزید کشیدگی پیدا ہونے کا خدشہ برقرار ہے۔ محکمہ خارجہ نے امریکی شہریوں، خصوصاً مشرقِ وسطیٰ میں مقیم یا وہاں کا سفر کرنے والوں کو سخت تاکید کی ہے کہ وہ ہر وقت چوکنا رہیں، اپنے اردگرد کے حالات پر گہری نظر رکھیں اور مقامی میڈیا اور حکام سے تازہ ترین معلومات حاصل کرتے رہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ تمام امریکی شہری اپنے قریب ترین امریکی سفارت خانے یا قونصل خانے کی جانب سے جاری کردہ سیکورٹی اپڈیٹس پر سختی سے عمل کریں۔ کسی بھی ناگہانی یا ہنگامی صورتحال کی صورت میں سفارتی مشنز سے فوری رابطہ قائم کیا جائے۔
امریکی محکمہ خارجہ نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ بحران کے باعث بین الاقوامی فضائی سفر بری طرح متاثر ہو سکتا ہے۔ پروازوں کی اچانک منسوخی، تاخیر اور بعض ممالک کی جانب سے اپنی فضائی حدود (Airspace) کی عارضی بندش کے واضح امکانات موجود ہیں۔ اس لیے مسافروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنے سفری منصوبوں پر نظرثانی کریں اور ایئر لائنز سے رابطے میں رہیں۔
سفری انتباہ میں واضح کیا گیا ہے کہ حالیہ کشیدگی کے دوران دنیا کے مختلف حصوں میں امریکی سفارتی تنصیبات، دفاتر اور امریکی مفادات کو بھی نشانہ بنائے جانے کے ممکنہ خطرات لاحق ہو سکتے ہیں، لہٰذا سفارتی عملے اور شہریوں کو الرٹ رہنے کی ضرورت ہے۔
یہ اہم سفری ہدایت نامہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جبکہ خطے میں جاری فوجی کارروائیوں نے عالمی سلامتی اور ہوابازی کے شعبے کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماہرینِ خارجہ امور کے مطابق اگر موجودہ صورتحال مزید بگڑتی ہے تو اس کے براہِ راست اثرات عالمی ہوابازی، سیاحت، سفارتی سرگرمیوں اور بین الاقوامی تجارت پر پڑ سکتے ہیں۔





