واشنگٹن: امریکہ میں مستقل سکونت (گرین کارڈ) کا حصول غیر ملکی پیشہ ور افراد کے لیے انتہائی دشوار ہو گیا ہے۔ نیشنل فاؤنڈیشن فار امریکن پالیسی (NFAP) کی ایک تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے سخت امیگریشن پالیسیوں اور ملکی کوٹے کی پابندی کے باعث امریکہ میں گرین کارڈ کی درخواستوں کا بیک لاگ 12 لاکھ (1.2 million) سے تجاوز کر گیا ہے۔
امریکی قانون کے تحت ہر سال صرف 1,40,000 روزگار پر مبنی گرین کارڈز جاری کیے جاتے ہیں، اور کسی بھی ایک ملک کو کل گرین کارڈز کا 7 فیصد سے زیادہ نہیں دیا جا سکتا۔ اس پالیسی کے باعث زیادہ آبادی والے ممالک کے ماہرین کو شدید مشکلات کا سامنا ہے:
ماسٹرز ڈگری ہولڈرز اور پیشہ ور بھارتی ماہرین کے لیے گرین کارڈ کا تخمینہ شدہ انتظار 179 سال تک پہنچ چکا ہے۔
ماسٹرز ڈگری کی حامل EB-2 کیٹیگری میں چینی شہریوں کو تقریباً 25 سال انتظار کرنا پڑ سکتا ہے۔
فلپائن جیسے ممالک کے ہنر مند افراد کا انتظار محض چند ماہ کا ہے۔
اعلیٰ ترین کیٹیگری میں بھی بھارتیوں کے لیے 4 سے 5 سال اور چینی شہریوں کے لیے 5 سال کا انتظار لازمی ہے۔
این ایف اے پی (NFAP) کے مطابق، یہ طویل تاخیر امریکی کمپنیوں کے لیے غیر ملکی ہنر مندوں کو برقرار رکھنا مشکل بنا رہی ہے۔ ‘H-1B’ ویزا رکھنے والے زیادہ تر ٹیک ورکرز اس طویل انتظار کے باعث ایک ہی شعبے اور اسپانسر کمپنی کے ساتھ بندھے رہنے پر مجبور ہیں۔ نوکری ختم ہونے کی صورت میں ان کے پاس ملک چھوڑنے یا 60 دنوں کے اندر نئی نوکری ڈھونڈنے کی سخت شرط ہوتی ہے۔
علاوہ ازیں، انتظامیہ کی جانب سے H-1B درخواستوں پر 1,03,000 ڈالر کی بھاری ایڈمنسٹریٹو فیس عائد کرنے کی تجویز نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔





