واشنگٹن: ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کو امریکی فارسٹ سروس (US Forest Service) کی دیکھ بھال کرنے والے سینئر اہلکار مائیکل بورن (Michael Boren) کے خلاف تحقیقات کے مطالبات کا سامنا ہے۔
تین ڈیموکریٹک سینیٹرز نے الزام عائد کیا ہے کہ مائیکل بورن نے آئیڈاہو (Idaho) میں اپنے نجی فارم ہاؤس (Ranch) کے قریب لگی آگ بجھانے کے لیے عملے پر اضافی وسائٹ بھیجنے کے لیے غیر مناسب دباؤ ڈالا۔
سینیٹرز ران وائڈن (Ron Wyden)، امی کلوبرچار (Amy Klobuchar) اور مارٹن ہینرچ (Martin Heinrich) نے امریکی زراعت کی سیکریٹری بروک رولنز (Brooke Rollins) کو خط لکھ کر اس معاملے کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
آئیڈاہو کے سوتوتھ نیشنل فارسٹ (Sawtooth National Forest) میں 12 جولائی کو کیبن کریک (Cabin Creek) کے مقام پر 7 ایکڑ رقبے پر آگ لگی تھی جسے 15 جولائی تک مکمل طور پر بجھا دیا گیا تھا۔
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق، 480 ایکڑ رقبے پر مشتمل نجی رینچ کے مالک مائیکل بورن نے فارسٹ سروس کے حکام سے بار بار رابطہ کیا اور مزید ہوائی جہاز استعمال نہ کرنے پر سوالات اٹھائے۔
سینیٹرز کا کہنا ہے کہ دیگر مقامات پر اس سے کہیں بڑی آگ پر قابو پانے کے لیے اتنے وسائل فراہم نہیں کیے گئے، اور سیاسی شخصیات کے ذاتی مفادات کی وجہ سے ٹیکس دہندگان کے فنڈز کا ضیاع ہوا ہے۔
محکمہ زراعت کے ترجمان نے الزام کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بورن نے صرف اپنے علاقے کے قریب آگ کی اطلاع دی تھی اور انہوں نے اضافی وسائل بھیجنے کے لیے کوئی دباؤ نہیں ڈالا۔
ڈیموکریٹک سینیٹرز نے محکمہ زراعت کو 10 ستمبر تک جواب جمع کرانے کی مہلت دی ہے تاکہ مستقبل میں ایسے تنازعات اور اختیارات کے ممکنہ ناجائز استعمال کی روک تھام کی جا سکے۔





