اسلام آباد/واشنگٹن: مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور عالمی منڈیوں میں تیل کے بحران کو ختم کرنے کے لیے امریکی مذاکراتی ٹیم آج بروز ہفتہ پاکستان روانہ ہو رہی ہے۔
تاہم، ایران نے واضح کیا ہے کہ اس کے حکام کا امریکی نمائندوں سے براہ راست ملاقات کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور داماد جیرڈ کشنر ہفتے کی صبح اسلام آباد کے لیے روانہ ہوں گے جہاں وہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے بات چیت کی کوشش کریں گے۔
دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ‘ایکس’ (ٹویٹر) پر بیان جاری کیا ہے کہ تہران اپنے تحفظات ثالث (پاکستان) کے ذریعے پہنچائے گا۔
کشیدگی کا پس منظر: امریکہ اور ایران کے درمیان نو ہفتوں سے جاری اس تنازع نے آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کو تقریباً بند کر دیا ہے، جس سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں کئی سالوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کا کہنا ہے کہ ایران کے پاس ایک “اچھا معاہدہ” کرنے کا موقع ہے، بشرطیکہ وہ اپنے ایٹمی پروگرام سے دستبردار ہو جائے۔
صدر ٹرمپ نے مذاکرات کے لیے دو ہفتوں کی یکطرفہ جنگ بندی میں توسیع کر دی ہے، جبکہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان بھی جنگ بندی میں تین ہفتے کی توسیع کی گئی ہے۔





