واشنگٹن / ابوظہبی: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ (Donald Trump) نے متحدہ عرب امارات (UAE) کو امریکی برآمدات (US Exports) کے لیے خصوصی سہولتوں اور رعایت حاصل کرنے والے ممالک کی فہرست میں شامل کر لیا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق، امریکا نے امارات کو برآمدی ضوابط میں نمایاں رعایت دیتے ہوئے اسے ایکسپورٹ ایڈمنسٹریشن ریگولیشنز (EAR) کے تحت کنٹری گروپ اے-5 (Country Group A-5) میں شامل کر دیا ہے۔
امریکی محکمہ تجارت کے بیورو آف انڈسٹری اینڈ سیکیورٹی (BIS) کے مطابق، اس نئی درجہ بندی کے تحت اماراتی حکومت اور منظور شدہ تجارتی ادارے ‘اسٹریٹجک ٹریڈ آتھرائزیشن’ (STA) کے تحت متعدد اہل مصنوعات انفرادی برآمدی لائسنس کے بغیر درآمد کر سکیں گے، بشرطیکہ وہ مقررہ شرائط اور امریکی قوانین کی پاسداری کریں۔
اس فیصلے کے بعد متحدہ عرب امارات کو درج ذیل شعبوں کے لیے جدید امریکی ٹیکنالوجی تک آسان رسائی ملے گی:
مصنوعی ذہانت (AI) کی جدید چپس اور سپرکیمپیوٹنگ
تجارتی سیٹلائٹس اور خلائی ٹیکنالوجی (Space Technology)
فوجی سازوسامان اور دوہرے استعمال (Dual-use) کی حساس اشیاء
سول جوہری توانائی، نیم موصل (Semiconductors)، اور سمندری پانی کو میٹھا بنانے کے منصوبے
امریکی محکمہ تجارت کا کہنا ہے کہ یو اے ای کئی دہائیوں سے واشنگٹن کا اہم دفاعی اور تجارتی شراکت دار رہا ہے۔ اس فیصلے کے بعد متحدہ عرب امارات خلیجی خطے (Gulf Region) کا پہلا، جبکہ ترکیہ کے بعد مسلم دنیا کا دوسرا ملک بن گیا ہے جسے A-5 کی یہ خصوصی درجہ بندی حاصل ہوئی ہے۔
دوسری جانب، ایران نے اس امریکی اقدام پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے الزام عائد کیا کہ امارات کو دی جانے والی یہ رعایت دراصل ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں میں تعاون کا صلہ ہے، اور امارات کو اس پر جواب دہ ہونا پڑے گا۔
علاوہ ازیں، بعض امریکی قانون سازوں اور سلامتی کے ماہرین نے بھی حساس ٹیکنالوجی کی منتقل پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ تاہم، امریکی انتظامیہ کا موقف ہے کہ سخت برآمدی نگرانی اور حفاظتی اقدامات کے باعث قومی سلامتی کے تمام خطرات کو قابو میں رکھا جائے گا۔





