واشنگٹن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امریکی ریاست ‘نیو میکسیکو’ (New Mexico) کا نام تبدیل کر کے ‘نیو امریکہ’ (New America) ر: کھنے کی تجویز نے امریکہ کے سیاسی حلقوں میں ایک نیا تنازع کھڑا کر دیا ہے۔ ڈیموکریٹک رہنماؤں اور نیو میکسیکو کے مقامی حکام نے اس تجویز کو ملکی مسائل، مہنگائی اور خارجہ پالیسی کی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کا ڈرامہ قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔
میکسیکو کے ساتھ تجارتی مذاکرات میں کشیدگی کے دوران صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر تجویز کی حمایت کرتے ہوئے لکھا کہ انہیں نام تبدیل کرنے کی تجاویز موصول ہوئی ہیں اور یہ خیال اس شاندار ریاست کے لیے “زیادہ معتبر اور خوبصورت” ہوگا۔ اس سے قبل ٹرمپ انتظامیہ نے خلیجِ میکسیکو کو ‘گلف آف امریکہ’ اور جھیل انٹاریو کو ‘لیک امریکہ’ کا نام دینے کے انتظامی احکامات جاری کیے تھے۔
امریکی آئین و قوانین کے تحت امریکی صدر یا وفاقی حکومت کو کسی بھی امریکی ریاست کا نام تبدیل کرنے کا کوئی قانونی اختیار حاصل نہیں ہے۔ کسی بھی ریاست کا نام تبدیل کرنے کے لیے متعلقہ ریاست کے عوام کا ووٹنگ (بیلٹ میر) کے ذریعےاپنی ریاستی آئین میں ترمیم کی منظوری دینا لازمی ہوتا ہے۔
ڈیموکریٹک گورنر مشیل لوہان گریشم نے ٹرمپ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ نیو میکسیکو کا نام بحث کا موضوع نہیں ہے اور یہ نام امریکہ کے قیام سے بھی پہلے کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ ایران کے ساتھ جنگ، گیس کی بڑھتی قیمتوں اور مہنگائی سے عوام کی توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
سینیٹر مارٹن ہینرچ اور سینیٹر بن رائے لوہان نے واضح کیا کہ ریاست کا نام ہمیشہ ‘نیو میکسیکو’ ہی رہے گا اور صدر کی یہ حرکتیں ان کی بدعنوانی کو ظاہر کرتی ہیں۔
حیران کن طور پر نیو میکسیکو سے گورنر کے عہدے کے ریپبلکن نامزد امیدوار گریگ ہل (Greg Hull) نے بھی صدر ٹرمپ کی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ 500 سال پرانی تاریخ اور ریڈ انڈین قبائل کی شناخت کا سودا نہیں کیا جا سکتا۔




