واشنگٹن(ویب ڈیسک): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ تین روزہ سرکاری دورے پر بیجنگ پہنچ گئے، جہاں ان کا شاندار استقبال کیا گیا۔ اپنے اس دورے کے دوران صدر ٹرمپ چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کریں گے جس میں جاری تجارتی جنگ، عالمی معیشت اور علاقائی سیکیورٹی بشمول ایران تنازع پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
واشنگٹن سے روانگی سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے ایران کے معاملے پر دو ٹوک موقف اختیار کیا۔ انہوں نے کہا کہ جو شخص ایران کو جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت دینے کی بات کرتا ہے وہ “بے وقوف” ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ ایران کے ساتھ ایک بہتر معاہدہ چاہتا ہے جو دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ہو، تاہم انہوں نے انتباہ بھی کیا کہ “ایران کے خلاف جیت ہماری ہوگی، چاہے وہ پرامن طریقے سے ہو یا کسی اور صورت میں۔”
دلچسپ بات یہ ہے کہ صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل میں پاکستان کے کلیدی کردار کی کھل کر تعریف کی۔ انہوں نے وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کو “غیر معمولی شخصیات” قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ثالثی کے لیے بہترین اور شاندار کوششیں کی ہیں۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ اگرچہ وہ صدر شی جن پنگ کے ساتھ ایران کی صورتحال پر بات کریں گے، لیکن ایران کے معاملے پر امریکہ کو چین کی مدد کی ضرورت نہیں ہے۔



