نیویارک: صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے نیویارک ریاست اور سٹی انتظامیہ کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔
امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی (DHS) کے سیکرٹری مارک وین ملن (Markwayne Mullin) نے منگل کے روز نیویارک میں ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے میئر زوہران ممدانی (Zohran Mamdani) اور گورنر کیتھی ہوچل (Kathy Hochul) کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔
سیکرٹری ملن نے انکشاف کیا کہ امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) نے گزشتہ ایک ماہ کے دوران نیویارک میں 2,100 افراد کو گرفتار کیا ہے۔
آئی سی ای (ICE) کے فیلڈ آفس ڈائریکٹر کین جینا لو کے مطابق یہ آپریشن 27 جولائی سے 29 اگست کے درمیان نیویارک شہر، لانگ آئی لینڈ اور ہڈسن ویلی میں چلایا گیا۔ حکام نے دعویٰ کیا کہ گرفتار کیے گئے تمام 2,100 افراد مجرمانہ پس منظر رکھتے ہیں۔
مارک وین ملن کا کہنا تھا کہ اگرچہ تمام گرفتار شدگان سنگین ترین جرائم میں ملوث نہیں، لیکن وہ ایسے افراد کی نمائندگی کرتے ہیں جنہوں نے قانونی راستے کے بجائے غیر قانونی طریقہ منتخب کیا۔
انہوں نے نیویارک کے ان قوانین پر شدید برہمگی کا اظہار کیا جو مقامی حکام کو ‘آئی سی ای’ کے ساتھ تعاون کرنے سے روکتے ہیں۔
نیویارک کی گورنر کیتھی ہوچل نے ڈی ایچ ایس سیکرٹری کے ان دعوؤں کو فوری طور پر مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا: “اس بات کا کوئی امکان نہیں کہ اتنی بڑی تعداد ان لوگوں کی ہو جنہوں نے نیویارک کے قانون کے مطابق کوئی سنگین جرم کیا ہو۔
ٹرمپ انتظامیہ سرحد عبور کرنے والے ہر شخص کو مجرم سمجھتی ہے، اس لیے عوام ان کے ان دعوؤں کے دھوکے میں نہ آئیں۔”
واضح رہے کہ ‘آئی سی ای’ کے اپنے اعداد و شمار کے مطابق، ان کی تحویل میں موجود افراد میں سے صرف 31 فیصد ہی کسی جرم میں سزا یافتہ ہیں۔ مقامی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے نوٹس کے بعد سے کوئنز اور بروکلین سمیت متعدد علاقوں میں تارکینِ وطن کے خلاف چھاپوں میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔





