نیویارک: وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے حاشیے (Sidelines) پر ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے نیویارک میں اہم ملاقات کی ہے۔
اس اعلیٰ سطحی ملاقات میں پاکستان اور ایران کے دوطرفہ تعلقات کے ساتھ ساتھ خطے کی کشیدہ صورت حال بالخصوص امریکہ اور ایران کے درمیان جاری تنازع پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیراعظم آفس (PMO) کے مطابق اس ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ آصف اور معاون خصوصی طارق فاطمی بھی موجود تھے، جبکہ ایرانی وفد میں وزیر خارجہ عباس عراقچی شامل تھے۔
دونوں رہنماؤں نے اس سے قبل اگست میں کرغزستان میں شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے اجلاس کے موقع پر بھی ملاقات کی تھی جہاں دونوں ممالک کے دیرینہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا تھا۔
یہ اہم سفارتی ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب پاکستان خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے امریکہ اور ایران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے کی کوششیں کر رہا ہے۔
جولائی میں اسلام آباد یادداشتِ فاصلت (MoU) کے ناکام ہونے کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی میں پاکستان نے سفارتی راستے کھلے رکھنے کے لیے مستقل کردار ادا کیا ہے، جہاں قطری سفارت کاروں کی شٹل ڈپلومیسی کے ساتھ ساتھ پاکستان کا مواصلاتی چینل بھی متحرک ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کا جمعہ کے روز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنا سالانہ خطاب متوقع ہے، جس میں وہ مقبوضہ کشمیر، فلسطین اور مشرقِ وسطیٰ کے بحران پر پاکستان کا نقطہ نظر دنیا کے سامنے پیش کریں گے۔





