نیویارک (اسپورٹس ڈیسک): فیفا ورلڈ کپ 2026 کی کامیابی اور شاندار یادگار کے تسلسل میں میئر نیویارک سٹی زہران ممدانی، ڈیپارٹمنٹ آف یوتھ اینڈ کمیونٹی ڈیولپمنٹ (DYCD)، نیویارک سٹی ایف سی اور ‘سٹی ان دی کمیونٹی’ نے مل کر ایک تاریخی اقدام “نیویارک سٹی اسپورٹس اینڈ ٹیکنالوجی انوویشن چیلنج” کا باضابطہ آغاز کر دیا ہے.
اس پروگرام کا مقصد سینکڑوں نوجوانوں کو کھیل، ٹیکنالوجی اور جدید جدت طرازی کے میدان میں مستقبل کے پیشوں سے روشناس کرانا ہے۔
یہ چھ ہفتوں پر محیط چیلنج نیویارک سٹی کے مشہور سمر یوتھ ایمپلائمنٹ پروگرام (SYEP) کے ذریعے پیش کیا جا رہا ہے۔ اس میں طلباء کی مختلف ٹیمیں تشکیل دی جائیں گی جو فٹ بال تک رسائی بڑھانے، پبلک انفراسٹرکچر کی بہتری اور کھیلوں کے جدید مستقبل کی تشکیل کے لیے اپنے جدید خیالات اور منصوبے پیش کریں گی۔
پروگرام کے دوران شرکاء نیویارک یونیورسٹی (NYU) کے اساتذہ اور نیویارک سٹی ایف سی کے پیشہ ور ماہرین کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔ طلباء کو مصنوعی ذہانت (AI)، ویڈیو اسسٹنٹ ریفری (VAR) ٹیکنالوجی، اور کھیلوں میں گلوبلائزیشن جیسے جدید موضوعات پر کام کرنے کا موقع ملے گا۔
طلباء کے لیے اہم عملی پروجیکٹس
پروگرام کے تحت نوجوان اہم شعبوں پر پروجیکٹس تیار کریں گے .
مستقبل کا اسمارٹ اسٹیڈیم: ایک ایسا ماحول دوست اور پائیدار اسٹیڈیم اور ٹرانسپورٹ سسٹم ڈیزائن کرنا جو 50,000 سے زائد شائقین کی باآسانی نقل وحرکت کو ممکن بنا سکے۔
سب کے لیے کھیل (Sports for All): ایک ایسا ڈیجیٹل پلیٹ فارم بنانا جو شہر بھر کے نوجوانوں کو کھیلوں کے مواقع سے جوڑے۔
موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے والے اور سب کی شمولیت کو یقینی بنانے والے ایسے پبلک اسپورٹس پارکس اور میدان ڈیزائن کرنا جو ہر شہری کے لیے دستیاب ہوں۔
میئر زہران ممدانی کاکہنا ہے کہ “فیفا ورلڈ کپ ہمارے نوجوانوں کو نہ صرف بہترین کھیل بلکہ مستقبل کے جدید اسٹیڈیمز، موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے والے اسپورٹس فیلڈز اور جدید ڈیجیٹل پلیٹ فارمز ڈیزائن کرنے کی ترغیب دے رہا ہے۔ یہ پروگرام نیویارک میں معماروں، انجینئرز اور سائنسدانوں کی نئی نسل تیار کرے گا۔”
ممدانی انتظامیہ کی جانب سے یہ اقدام اس حکمت عملی کا حصہ ہے جس کے تحت ورلڈ کپ کا اثر صرف ٹورنامنٹ تک محدود نہ رہے۔ اس سے قبل نیویارک سٹی میں 50 اسکول بلاکس کو ورلڈ کپ فیلڈ ڈیز میں بدلنے، اتھلیٹک گراؤنڈز میں 4,000 اضافی گھنٹے فراہم کرنے اور رات کے وقت پانچ فٹ بال پچز کھولنے جیسے اقدامات کا اعلان بھی کیا جا چکا ہے۔





