نیویارک: نیویارک سٹی میں لاکھوں ‘رینٹ اسٹیبلائزڈ’ (Rent-Stabilized) اپارٹمنٹس کے کرایوں میں ممکنہ اضافے یا انہیں برقرار رکھنے کے حوالے سے ‘رینٹ گائیڈ لائنز بورڈ’ (RGB) کی عوامی سماعتوں کا آغاز ہو گیا ہے۔
اس موقع پر کرایہ داروں کی ایک بڑی تعداد نے ہال کے باہر احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے کرایوں کو فوری طور پر منجمد (Rent Freeze) کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
واضح رہے کہ نیویارک کے شہریوں کو آخری بار کرایوں میں ریلیف (رینٹ فریز) سال 2020ء میں ملا تھا، اور اب ایک بار پھر یہ تجویز میز پر موجود ہے۔ یہ احتجاج ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ‘زیلو’ (Zillow) کے اعداد و شمار کے مطابق نیویارک سٹی میں اوسط کرایہ 3,000 ڈالر ماہانہ سے تجاوز کر چکا ہے۔
سماعت میں شریک ایک کرایہ دار ‘وانڈا مارٹنیز’ نے، جو ایک مقررہ آمدنی (Fixed Income) پر گزارا کرتی ہیں، بتایا کہ بڑھتے ہوئے کرایوں کے ساتھ طبی اخراجات پورے کرنا اب ان کے لیے ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا، “مجھے ادویات اور میڈیکل بلز خود ادا کرنے پڑتے ہیں، صرف ایک انہیلر کی قیمت بعض اوقات 200 ڈالر تک پہنچ جاتی ہے۔” ایک اور شہری ‘کِٹ لی’ کا کہنا تھا کہ ہر گھر کا سب سے بڑا مالی بوجھ کرایہ ہی ہوتا ہے، جو ماہانہ آمدنی کا بڑا حصہ نگل جاتا ہے۔
مکان مالکان کا مؤقف:
دوسری جانب، مکان مالکان کی نمائندگی کرنے والی تنظیم ‘سمال پراپرٹی اونرز آف نیویارک’ کی صدر ‘این کورچک’ نے مالکان کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ پرانی عمارتوں کی دیکھ بھال کے اخراجات (Maintenance Costs) میں بے پناہ اضافہ ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا، “ہماری فیملی دو ایسی عمارتیں چلا رہی ہے جو 130 سال پرانی ہیں۔ فنڈز کی کمی کے باعث ہم چھتیں تبدیل کرنے کے بجائے صرف عارضی مرمت (Band-Aid) پر مجبور ہیں، ہمیں عمارتوں کو بچانے کے لیے اضافی آمدنی کی ضرورت ہے۔”
کرایوں کو منجمد کرنا نیویارک کے میئر زوہران ممدانی (Mayor Zohran Mamdani) کا ایک اہم انتخابی وعدہ تھا، تاہم اس کا براہ راست اختیار رینٹ گائیڈ لائنز بورڈ کے پاس ہے۔ میئر ممدانی نے رواں سال فروری میں اس 9 رکنی بورڈ میں 6 نئے ارکان نامزد کیے تھے۔ بورڈ کے ابتدائی ووٹ کے مطابق، ایک سال کے لیز پر 0% سے 2% اور دو سال کے لیز پر 0% سے 4% تک اضافے کی تجویز زیرِ غور ہے۔
کرایوں کے اس تنازع پر اگلی عوامی سماعت پیر کو برونکس کے ہوسٹوس کمیونٹی کالج میں ہوگی، جبکہ بورڈ اس معاملے پر اپنا حتمی اور فیصلہ کن ووٹ 25 جون کو ڈالے گا۔
