نیویارک:نیویارک شہر کے کرائے داروں کے لیے ایک تاریخی دن کا آغاز ہو گیا ہے۔ نیویارک سٹی کی تاریخ میں پہلی بار ایک اور دو سالہ لیز (Lease Renewals) پر کرایوں کو مکمل طور پر منجمد (Rent Freeze) کرنے کا فیصلہ عمل میں آ گیا ہے۔
رینٹ گائیڈ لائنز بورڈ (RGB) کی جانب سے جون میں منظور کی گئی اس تاریخی پیش رفت سے شہر کے 10 لاکھ سے زائد رینٹ اسٹیبلائزڈ (Rent-Stabilized) اپارٹمنٹس میں رہنے والے تقریباً 24 لاکھ افراد فائدہ اٹھا سکیں گے۔
اس فیصلے کے تحت اگلے ایک سے دو سال کے لیے کرائے داروں کے نئے معاہدوں پر کرایوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا جا سکے گا، جس سے عام شہریوں کو مہنگائی کے اس دور میں بڑی مالی راحت ملنے کی امید ہے۔
کرائے داروں کا ردِعمل: نیویارک اسٹیٹ ٹیننٹ بلاک کی رہنما جوآن گریریل (Joanne Grell) نے اس فیصلے کو کرائے داروں کی بڑی فتح قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے شہریوں کو راشن، ادویات اور روزمرہ کی ضروریات کے لیے معقول بچت کا موقع ملے گا۔
اگرچہ یہ فیصلہ نافذ ہو چکا ہے، لیکن میئر زوہران ممدانی (Zohran Mamdani) کا یہ اہم ترین انتخابی وعدہ قانونی تنازع کا شکار ہو گیا ہے۔ سابق فرسٹ ڈپٹی میئر رینڈی ماسٹرو (Randy Mastro) کی جانب سے دائر کردہ مقدمے میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ میئر ممدانی نے بورڈ پر غیر قانونی اثر و رسوخ استعمال کیا۔
ووٹنگ سے چند گھنٹے قبل استعفیٰ دینے والی لینڈ لارڈ نمائندہ کرسٹینا سمتھ (Christina Smyth) نے خبردار کیا ہے کہ کرائے منجمد کرنے سے عمارتوں کی دیکھ بھال، انشورنس اور یوٹیلیٹی اخراجات پورا کرنا ناممکن ہو جائے گا، جس سے بالآخر خراب بوائلرز اور خستہ حال عمارتوں کا نقصان کرائے داروں ہی کو اٹھانا پڑے گا۔
میئر کی جانب سے نامزد کردہ نو رکنی رینٹ گائیڈ لائنز بورڈ اگلے سال دوبارہ اجلاس کرے گا تاکہ اکتوبر 2027ء سے شروع ہونے والی لیزز کے لیے کرایوں کی شرح کا فیصلہ کیا جا سکے۔



