لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00
ہیڈ لائنز

اینتھروپک کابڑادعویٰ:چینی سرکاری کمپنیوں کو AI فروخت کرنےپرمکمل پابندی

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

سان فرانسسکو / واشنگٹن (ویب ڈیسک): مصنوعی ذہانت (AI) بنانے والی دنیا کی ممتاز کمپنی ‘اینتھروپک’ (Anthropic) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (CEO) ڈاریو اموڈئی (Dario Amodei) نے اپنی کمپنی کے سیفٹی ریکارڈ اور چینی سرکاری کمپنیوں پر عائد پابندیوں کا مضبوط دفاع کیا ہے۔

انہوں نے واضح کیا ہے کہ اینتھروپک فرنٹئیر اے آئی کی دنیا میں واحد اور پہلی کمپنی ہے جس نے پیپلز ریپبلک آف چائنا (PRC) کے زیرِ انتظام کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی فروخت پر مکمل پابندی عائد کر رکھی ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر ایک طویل تحریر شائع کرتے ہوئے اموڈئی نے ‘انکوڈ’ (Encode) نامی اے آئی سیفٹی این جی او کے چیف اسٹریٹجی آفیسر نیتھن کیلوین کے الزامات کا جواب دیا۔

نیتھن نے اینتھروپک پر الزام لگایا تھا کہ کمپنی نے 500 ارب ڈالر سے زائد کے کمپیوٹنگ معاہدوں، اپنے ماڈل ‘کلاڈ’ (Claude) کے ذریعے نئے ماڈلز کی تیاری اور سیفٹی پالیسیوں میں تبدیلیوں سے سیفٹی کے ساتھ سمجھوتہ کیا ہے۔

ڈاریو اموڈئی نے نو ایسے فیصلے گنوائے جنہوں نے کمپنی کو تجارتی طور پر مالی نقصان پہنچایا لیکن اے آئی کی حفاظت کو یقینی بنایا۔ ان میں ان کے ایڈوانسڈ ’میتھوس‘ (Mythos) ماڈل تک محدود رسائی، اینتھروپک کے 5 فیصد حصہ کو عوامی بہبود کے فنڈ کے لیے وقف کرنا اور بائیولوجیکل ہتھیاروں کی ممکنہ تیاری کے خلاف سخت ترین گارڈ ریلز شامل ہیں۔

اموڈئی نے اعتراف کیا کہ مسودہ تیار کرنے کے عمل میں کمپنی سے کچھ مواصلاتی غلطیاں ہوئی ہیں۔ مجوزہ وفاقی بل کے تحت اگر کسی ماڈل سے 50 سے زائد ہلاکتوں یا 1 ارب ڈالر سے زائد کے مالی نقصان کا شدید خدشہ ہو تو حکومت عدالت کے ذریعے اس پر فوری پابندی لگا سکتی ہے۔

انہوں نے اعلان کیا کہ اینتھروپک 15 جنوری 2027 تک اے آئی کی تحقیق کی رفتار کو ریگولیٹ کرنے کے لیے تجاویز پیش کرنے کے اپنے عزم پر قائم ہے، یا ایسا نہ کرنے کی صورت میں اس کا واضح جواز فراہم کرے گی