لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00

ہم نےثابت کردیاکہ ورلڈکپ امیروں کانہیں،عام عوام کاایونٹ ہے،زوہران ممدانی

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

نیویارک (ویب ڈیسک): نیویارک سٹی میں فیفا ورلڈ کپ 2026 کے 7 کامیاب میچوں کے انعقاد اور اتوار کو ہونے والے فائنل مقابلے سے قبل، میئر زہران ممدانی نے اس میگا ایونٹ کی کامیابیوں پر روشنی ڈالی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس ٹورنامنٹ نے جہاں نیویارک اور نیو جرسی کے خطے میں 10 لاکھ سے زائد سیاحوں کا استقبال کیا، وہیں اس نے ایک بڑی حقیقت بھی ثابت کی کہ دنیا کا یہ سب سے بڑا کھیلوں کا میلہ محنت کش اور عام طبقے کے لوگوں کا بھی ہو سکتا ہے۔

میئر زہران ممدانی نے اپنے بیان میں کہا: “ہم نے شروع ہی سے کہا تھا کہ ورلڈ کپ نیویارک کے عام شہریوں کا ہے۔ اس موسم گرما میں ہم نے یہ کر دکھایا۔ دنیا کے سب سے زیادہ کثیر الثقافتی شہر میں رہنے والوں کو اس گیم کا حصہ بننے کے لیے ہزاروں ڈالرز کی ضرورت نہیں پڑی۔ کرونا (Corona) کا ایک بچہ، بے رج (Bay Ridge) کی ایک نرس اور لٹل ہیٹی کا ایک چھوٹا دکاندار، سب نے مل کر مفت یا انتہائی سستے داموں اس جشن کو منایا۔”

ممدانی انتظامیہ نے پورے ٹورنامنٹ کے دوران سستے داموں تفریح کی فراہمی کو اپنی اولین ترجیح بنایا۔ اس سلسلے میں کیے گئے اہم اقدامات درج ذیل ہیں:

مقامی شہریوں کے لیے صرف 50 ڈالر کی سستی ترین قیمت پر 1,000 ٹکٹیں مخصوص کی گئیں، جس میں اسٹیڈیم تک مفت بس سروس بھی شامل تھی۔

نیویارک کے پانچوں اضلاع بشمول برونکس، بروکلین اور راکفیلر سینٹر میں مفت آفیشل ‘فین فیسٹس’ (Fan Fests) اور واچ پارٹیاں منعقد کی گئیں۔ سینٹرل پارک کے گریٹ لان میں گورنر کیتھی ہوچل اور گلوبل سٹیزن کے تعاون سے دسیوں ہزار لوگوں کے لیے مفت اسکریننگ کا انتظام کیا گیا۔

شہر کی 50 گلیوں کو “ساکر اسٹریٹس” (Soccer Streets) میں تبدیل کر کے مفت پلے گراؤنڈز بنائے گئے۔ یہاں تک کہ رائکرز آئی لینڈ (Rikers Island) جیل میں قیدیوں کے لیے اچھے رویے کے انعام کے طور پر 90 سے زائد واچ پارٹیاں رکھی گئیں، جس میں ارجنٹینا اور انگلینڈ کے سیمی فائنل کے دوران خود میئر نے بھی شرکت کی۔

مہنگے آفیشل جرسیوں (جو 375 ڈالر کی تھیں) کے متبادل کے طور پر سٹی اسٹور پر صرف 50 ڈالر کی خصوصی نیویارک ورلڈ کپ شرٹس فروخت کی گئیں۔

ٹورنامنٹ کے دوران 10 لاکھ سے زائد مہمانوں کی آمد سے مقامی معیشت کو فروغ دینے کے لیے “فائیو بورو ونرز اسپیشل” کے تحت 900 سے زائد ریسٹورنٹس میں 26 ڈالر کے میل پیکجز متعارف کرائے گئے۔ اس کے ساتھ ہی، ممدانی انتظامیہ نے واضح کیا کہ تارکینِ وطن اور مزدوروں کا استحصال برداشت نہیں کیا جائے گا۔

محکمہ کنزیومر اینڈ ورکر پروٹیکشن نے 77,000 سے زائد لائسنس یافتہ کاروباروں کو مزدوروں کے حقوق کا پابند بنایا۔ میئر کے دفتر برائے تارکینِ وطن امور (MOIA) نے فٹبال کے یلو اور ریڈ کارڈ کی طرز پر 10 سے زائد زبانوں میں “ریفری کٹ” (Referee Kit) تقسیم کی، تاکہ تارکینِ وطن کو ان کے قانونی و آئینی حقوق سے آگاہ کیا جا سکے۔

ٹورنامنٹ کے دوران مڈ ٹاؤن ٹریفک پلان کے تحت خصوصی بس کوریڈورز بنائے گئے، جس کی بدولت ٹریفک کی رفتار ماضی کے مقابلے میں 23 فیصد تیز رہی اور آدھے سے زیادہ شائقین نے ذاتی گاڑیوں کے بجائے پبلک ٹرانسپورٹ کا استعمال کیا۔ سب وے ٹرینوں کو بھی کھیلنے والے ممالک کے رنگوں میں رنگا گیا۔

میئر ممدانی کا کہنا ہے کہ ورلڈ کپ کا جشن ختم ہونے کے بعد بھی نیویارک کے شہری ان مستقل سرمایہ کاریوں سے فائدہ اٹھاتے رہیں گے، جن میں کوئینز میں براڈوے پر نئی بس لین، نائنتھ ایونیو پر پیدل چلنے والوں اور سائیکل سواروں کے لیے محفوظ ٹریکس، بروکلین برج کے ساتھ نئی بائیک لینز اور اسپورٹس اسٹیڈیمز میں مستقل بڑی اسکرینوں کی تنصیب شامل ہے۔