نیو یارک (ویب ڈیسک): نیویارک کے میئر زہران کوامے ممدانی نے سٹی کونسل کی جانب سے پیش کردہ ابتدائی بجٹ جواب پر سخت ردعمل دیتے ہوئے اسے مالی حقائق سے دور قرار دیا ہے۔
میئر نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ تجاویز سے شہر کے اہم اداروں کے بجٹ میں اربوں ڈالر کی کٹوتی ہوگی، جس سے عوامی خدمات براہِ راست متاثر ہوں گی۔
میئر ممدانی نے سپیکر جولی مینن کی 6 ارب ڈالر کی بجٹ تجویز پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس میں آمدنی کے تخمینوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ہے اور قرضوں کی بچت کے حوالے سے مبالغہ آرائی سے کام لیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بچت کے پرانے اعداد و شمار کو دوبارہ گننے سے بجٹ خسارہ ختم نہیں کیا جا سکتا۔
میئر نے اپنے بیان میں اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ سٹی کونسل کی تجویز میں امیر ترین نیو یارکرز اور منافع بخش کارپوریشنز پر ٹیکس بڑھانے کا ذکر نہیں کیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ جب تک امیر طبقے پر ٹیکس نہیں لگایا جاتا، شہر کا ڈھانچہ جاتی خسارہ (Structural Deficit) کبھی ختم نہیں ہوگا۔
میئر نے کہا کہ یہ تجویز صرف ایک معاملے یعنی ‘کلاس سائز مینڈیٹ’ میں ریلیف مانگنے تک محدود ہے، جبکہ یہ شہر اور ریاست کے درمیان گہرے معاشی عدم توازن کو حل کرنے میں ناکام رہی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ نئے ریونیو کے بغیر خسارہ کم کرنے کا کوئی بھی دعویٰ حقیقت پر مبنی نہیں ہے۔
