New York Residents to Get Exclusive $50 FIFA World Cup Ticket Opportunity

یہ کامیابی اس لحاظ سے انتہائی غیر معمولی ہے کیونکہ فیفا ورلڈ کپ 2026 کے گروپ اسٹیج کے عام ٹکٹس بھی ری سیلنگ پلیٹ فارمز پر اس وقت ہزاروں ڈالرز میں بک رہے ہیں۔

Atif Khan

نیویارک: نیویارک کے میئر زہران ممدانی نے فٹبال کی عالمی گورننگ باڈی، فیفا (FIFA) کو ایک غیر معمولی اور تاریخی شرط ماننے پر مجبور کر دیا ہے۔

معاہدے کے تحت نیویارک سٹی کے رہائشیوں کو میٹ لائف اسٹیڈیم (MetLife Stadium) میں ہونے والے ورلڈ کپ میچوں کے 1,000 ٹکٹس محض 50 ڈالر میں دیے جائیں گے، جن کی تقسیم ایک شفاف عوامی لاٹری (قرعہ اندازی) کے ذریعے کی جائے گی۔

یہ کامیابی اس لحاظ سے انتہائی غیر معمولی ہے کیونکہ فیفا ورلڈ کپ 2026 کے گروپ اسٹیج کے عام ٹکٹس بھی ری سیلنگ پلیٹ فارمز پر اس وقت ہزاروں ڈالرز میں بک رہے ہیں۔

میٹ لائف اسٹیڈیم کے میچز کے لیے فیفا کے سب سے سستے ‘کیٹیگری 3’ ٹکٹ کی اصل قیمت بھی 220 ڈالر (ناروے بمقابلہ سینیگال میچ) سے لے کر 415 ڈالر (راؤنڈ آف 16 میچ) تک تھی، لیکن بلیک مارکیٹ اور ری سیلرز نے انہیں عام آدمی کی پہنچ سے دور کر دیا تھا۔ ایسے میں میئر ممدانی کی جانب سے 50 ڈالر کا ٹکٹ حاصل کرنا ایک بڑی سیاسی اور عوامی فتح سمجھا جا رہا ہے۔

معروف اسپورٹس جریدے ‘دی ایتھلیٹک’ کی رپورٹ کے مطابق، اس اقدام نے ورلڈ کپ کی ٹکٹنگ انڈسٹری کی سب سے بڑی خامی کو بے نقاب کر دیا ہے اور یہ ثابت کیا ہے کہ میزبان شہر اب فیفا کے خالص تجارتی ماڈل کے خلاف آواز اٹھانے لگے ہیں۔ میئر زہران ممدانی، جنہوں نے گزشتہ سال سستی ترین رہائش اور عوامی سستے حقوق کے ایجنڈے پر مہم چلائی تھی، نے واضح کیا کہ بڑے کھیل ہمیشہ عوامی انفراسٹرکچر، سیکیورٹی اور ٹیکس کے پیسوں پر ہوتے ہیں، لہذا ان پر پہلا حق بھی عام ورکنگ کلاس کا ہونا چاہیے نہ کہ صرف وی آئی پیز (VIPs) اور امراء کا۔

ذرائع کے مطابق، فیفا انتظامیہ اور صدر جانی انفنٹینو شروع میں اس ڈیل کے سخت خلاف تھے کیونکہ فیفا اپنے 11 ارب ڈالر کے ریکارڈ ریونیو ہدف کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتا تھا۔ فیفا کو خوف تھا کہ اگر نیویارک نے سستی ٹکٹوں کی روایت قائم کر دی تو لاس اینجلس، میکسیکو سٹی اور ٹورنٹو جیسے دیگر میزبان شہر بھی ان پر ایسا ہی دباؤ ڈالیں گے۔ تاہم، نیویارک کے ہائی پروفائل میئر کے سیاسی اثر و رسوخ اور نیویارک/نیوجرسی ہوسٹ کمیٹی کے اسپانسرشپ ماڈل کی وجہ سے فیفا کو یہ رعایت دینا پڑی۔ یاد رہے کہ اس 50 ڈالر والی لاٹری میں 19 جولائی کو ہونے والا فائنل میچ شامل نہیں ہے۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس ڈیل کے لیے نیویارک کے ٹیکس دہندگان کا ایک روپیہ بھی استعمال نہیں ہوگا بلکہ یہ نقصان اسپانسرز کے ذریعے پورا کیا جائے گا۔ اس ڈیل کے بعد اب اٹلانٹا، ڈلاس اور کینساس سٹی جیسے دیگر امریکی شہروں کے میئرز پر بھی عوامی دباؤ بڑھ گیا ہے کہ وہ اپنے شہریوں کے لیے فیفا سے ایسی ہی رعایتیں کیوں نہیں حاصل کر سکے۔

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *