نیویارک: امریکہ کے ایک ڈسٹرکٹ جج نے امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کے ایجنٹوں پر نیویارک سٹی کی امیگریشن عدالتوں میں سول امیگریشن گرفتاریاں کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔
یہ اہم فیصلہ امریکی محکمہ انصاف (DOJ) کے اس بیان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں تسلیم کیا گیا کہ ICE ایجنٹوں کے پاس عدالتوں کے احاطے سے تارکین وطن کو بڑے پیمانے پر حراست میں لینے کا کوئی قانونی جواز موجود نہیں ہے۔ محکمہ انصاف نے اس حوالے سے باقاعدہ معذرت نامہ بھی پیش کیا اور اسے ایجنسی کے وکلاء کی ایک “افسوسناک غلطی” قرار دیا۔
یہ عدالتی حکم “African Communities Together and The Door v. Todd Lyons” نامی کیس کے نتیجے میں جاری کیا گیا ہے۔ یہ مقدمہ امیگریشن کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں بشمول نیویارک سول لبرٹیز یونین (NYCLU)، امریکن سول لبرٹیز یونین (ACLU)، اور ‘میک دی روڈ نیویارک’ کی جانب سے دائر کیا گیا تھا۔ ان تنظیموں نے آئی سی ای (ICE) کی ان پالیسیوں کو چیلنج کیا تھا جن کے تحت عدالتوں میں آنے والے تارکین وطن کو گرفتار کر کے انہیں اپنے قانونی کیسز کی پیروی کرنے سے روکا جا رہا تھا۔
محکمہ انصاف نے عدالت میں جمع کرائے گئے خط میں واضح کیا کہ آئی سی ای کا 27 مئی 2025 کا میمو، جو عدالتوں کے قریب سول امیگریشن نافذ کرنے سے متعلق تھا، اس کا اطلاق کبھی بھی امیگریشن عدالتوں کے اندر یا ان کے قریب کارروائیوں پر نہیں ہوتا تھا۔
نیویارک سول لبرٹیز یونین میں امیگرنٹس رائٹس لٹیگیشن کی ڈائریکٹر ایمی بیلشر نے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا:”تقریباً ایک سال سے ہم نقاب پوش آئی سی ای افسران کو عدالتی راہداریوں میں غیر ملکی شہریوں پر گھات لگا کر حملہ کرتے، تارکین وطن کو زمین پر پٹختے اور بچوں کو ان کے والدین سے جدا کرتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔ اب، آئی سی ای نے تسلیم کر لیا ہے کہ امیگریشن عدالتوں میں بڑے پیمانے پر گرفتاریاں کرنے کا ان کے پاس کوئی جواز نہیں تھا۔ ہمیں اس کیس میں حتمی فیصلے کا انتظار ہے جو ان ظالمانہ اور بے مقصد پالیسیوں کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کر دے گا۔”
وفاقی ڈسٹرکٹ کورٹ نے پیر کے روز اس کیس میں عارضی روک تھام (Temporary Stay) کی منظوری دے دی ہے، جس سے تارکین وطن کو ایک بڑی قانونی راحت ملی ہے۔
