اوکلینڈ، کیلیفورنیا (ویب ڈیسک): سوشل میڈیا کمپنی ‘میٹا’ (Meta) کے سابق سیفٹی انجینئر اور وسل بلور آرٹورو بیجر (Arturo Béjar) نے امریکی ریاست کیلیفورنیا کی وفاقی عدالت میں جاری ایک تاریخی مقدمے کے دوران گواہی دیتے ہوئے سنسنی خیز انکشافات کیے ہیں۔
انہوں نے جیوری کو بتایا کہ میٹا نے بچوں کے تحفظ سے متعلق “نہ پوچھو، نہ بتاؤ” (Don’t ask, don’t tell) کی پالیسی اپنا رکھی ہے اور کمپنی اپنے پروڈکٹس سے بچوں کو پہنچنے والے شدید نقصانات سے مکمل طور پر باخبر تھی۔
بیجر نے عدالت میں بتایا کہ فیس بک اور انسٹاگرام کے الگورتھم بچوں کو جنسی درندوں (Sexual Predators)، پرتشدد اور گرافک مواد کی طرف دھکیلتے رہے، جس سے متعلق انہوں نے بارہا کمپنی کے چیف ایگزیکٹو مارک زکربرگ (Mark Zuckerberg) کو آگاہ کیا لیکن کوئی موثر اقدام نہیں کیا گیا۔
امریکی تاریخ کے اس اہم ترین تکنیکی و قانونی مقدمے کے اہم پہلو درج ذیل ہیں:
آرٹورو بیجر نے عدالت میں بتایا کہ 2021 میں انہوں نے مارک زکربرگ کو ای میل بھیج کر خبردار کیا تھا کیونکہ زکربرگ نے عوامی سطح پر یہ دعویٰ کیا تھا کہ کمپنی منافع پر تحفظ کو ترجیح دیتی ہے۔ بیجر کے مطابق زکربرگ کا یہ بیان بالکل گمراہ کن اور جھوٹ پر مبنی تھا۔
یہ مقدمہ امریکہ کی 29 ریاستوں کے اٹارنی جنرلز کی طرف سے دائر کیا گیا ہے۔ پراسیکیوٹرز کا الزام ہے کہ میٹا نے بچوں کو راغب کرنے اور انہیں ایڈکٹ (نادی) بنانے کے لیے جان بوجھ کر ایسے فیچرز ڈیزائن کیے۔ اس کے علاوہ کمپنی پر والدین کی اجازت کے بغیر 13 سال سے کم عمر بچوں کا ڈیٹا جمع کرنے کا بھی الزام ہے۔
اگر عدالت میں میٹا پر یہ الزامات ثابت ہو جاتے ہیں تو کمپنی کو 200 ارب ڈالر تک کا جرمانہ یا ہرجانہ ادا کرنا پڑ سکتا ہے، جو کہ میٹا کی سالانہ آمدنی کے برابر ہے۔
میٹا کے وکیل پال شمٹ نے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ کمپنی نے 13 سال سے کم عمر بچوں کے 10 لاکھ سے زائد اکاؤنٹس بند کیے ہیں اور صارفین کے تحفظ کے لیے متعدد ٹولز متعارف کروائے ہیں۔




