مانچسٹر: انگلش پریمیئر لیگ (Premier League) کی سرفہرست اور گزشتہ دہائی کی سب سے کامیاب فٹبال ٹیم ‘مانچسٹر سٹی’ (Manchester City) کے مالیاتی بے ضابطگیوں اور 115 چارجز کے قانونی معرکے میں فیصلے کی خبروں نے انگلش فٹبال میں ہلچل مچا دی ہے۔ اگرچہ ابھی تک باضابطہ سزاؤں کا حتمی اعلان نہیں کیا گیا، تاہم کھیل کی دنیا میں اس کے ممکنہ نتائج پر بحث چھڑ گئی ہے۔
برطانوی اسپورٹس میڈیا کے مطابق مانچسٹر سٹی پر مالی شفافیت کے قوانین کی خلاف ورزی کے سنگین الزامات ہیں، اور اگر جرم ثابت ہو جاتا ہے تو کلب کو انتہائی سخت سزاؤں اور تاریخی نقصانات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
مانچسٹر سٹی کے چیئرمین خلدون المبارک (Khaldoon Al Mubarak) نے مداحوں کے نام خط میں اپنے موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے آخری حد تک جائیں گے۔ پریمیئر لیگ کے عمل کے بعد معاملہ برطانیہ کی ہائی کورٹ تک بھی جا سکتا ہے۔
پریمیئر لیگ کے قوانین کے تحت مانچسٹر سٹی پر سنگین جرمانے، بھاری پوائنٹس کی کٹوتی (Points Deduction) یا پھر لیگ سے مکمل اخراج (Relegation) جیسے فیصلے سامنے آسکتے ہیں۔ گزشتہ سیزن میں ایورٹن اور ناٹنگھم فارسٹ کی معمولی خلاف ورزیوں پر پوائنٹس کاٹے گئے تھے، جس کی بنیاد پر مانچسٹر سٹی کو سنگین خطرہ لاحق ہے۔
مانچسٹر سٹی نے 2009 سے 2018 کے دوران 4 پریمیئر لیگ ٹائٹلز، 4 لیگ کپ اور 1 ایف اے کپ جیتا ہے۔ اگرچہ ماضی کی ٹرافیاں دوسری ٹیموں (مانچسٹر یونائیٹڈ يا لیورپول) کو منتقل کرنا تکنیکی طور پر مشکل ہے، لیکن حریف کلب اس کی منسوخی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
سیزن میں سرفہرست رہنے والی دیگر ٹیمیں مانچسٹر سٹی سے کروڑوں پاؤنڈز کے تاوان (Compensation) کا مطالبہ کرنے کی تیاری کر رہی ہیں۔
حیران کن طور پر قانونی کارروائی کی تلوار لٹکنے کے باوجود مانچسٹر سٹی نے حالیہ ٹرانسفر ونڈو میں تقریباً 460 ملین پاؤنڈز کا ریکارڈ خرچ کیا ہے۔
اسٹار اسٹرائیکر ارلنگ ہالینڈ (Erling Haaland) پہلے ہی 9 سالہ طویل معاہدو پر دستخط کر چکے ہیں، تاہم ریلیگیشن کی صورت میں کھلاڑیوں کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگ جائے گا۔



