میڈرڈ: اسپین کی سرفہرست فٹبال لیگ لا لیگا (La Liga) کے صدر خاویر تیباس (Javier Tebas) نے عالمی فٹبال کی گورننگ باڈی (فیفا) کے صدر جیانی انفینٹینو (Gianni Infantino) پر سخت تنقید کرتے ہوئے ان کے فوری استعفے کا مطالبہ کر دیا ہے۔
اطالوی اخبار لا گازیٹا ڈیلو اسپورٹ کو دیے گئے ایک تہلکہ خیز انٹرویو میں خاویر تیباس نے دعویٰ کیا کہ فیفا کے موجودہ اقدامات اور پالیسیاں عالمی فٹبال انڈسٹری کو تیزی سے تباہی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔
جب تیباس سے پوچھا گیا کہ کیا انفینٹینو کو عہدہ چھوڑ دینا چاہیے، تو انہوں نے واضح طور پر کہا”میری رائے میں جی ہاں، ان کا وقت اب پورا ہو چکا ہے۔ تاہم فیفا کا الیکشن سسٹم اندر سے ‘گل سڑ’ چکا ہے، اسی لیے کوئی مخالف امیدوار کھڑا نہیں ہوتا کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ نتیجہ کیا ہوگا۔”
انہوں نے مزید کہا کہ وہ امریکہ میں 2026 کے ورلڈ کپ کے دوران کئی ایسے لوگوں سے ملے جو انفینٹینو کے فیصلوں کے خلاف ہیں، لیکن ان کی خاموشی یا چشم پوشی اس تباہی کو مزید بڑھاوا دے رہی ہے۔
لا لیگا کے سربراہ نے فیفا کے حالیہ متعدد فیصلوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا فولارین بالوگن تنازع: امریکی اسٹرائیکر فولارین بالوگن کی معطلی کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مداخلت کے بعد منسوخ کرنے پر تیباس نے کہا کہ یہ انتہائی سنگین معاملہ تھا۔ اگر بیلجیم امریکہ کو شکست نہ دیتا تو یہ کیس انفینٹینو کی صدارت کا خاتمہ کر سکتا تھا۔
64 ٹیموں کا ورلڈ کپ: مستقبل میں 64 ٹیموں کا ورلڈ کپ کرانے کی تجاویز پر انہوں نے کہا کہ قومی لیگز اس کھیل کی اصل روح ہیں، لیکن 40 دن کے ایونٹ کے لیے باقی تمام فٹبال انڈسٹری اور روزگار کو قربان کیا جا رہا ہے۔
27 منٹ کا ہاف ٹائم: فائنل کے دوران پاپ اسٹارز (مڈونا، شکیرا، بی ٹی ایس وغیرہ) کے شوز کی وجہ سے ہاف ٹائم کا وقفہ 15 منٹ سے بڑھا کر ساڑھے 27 منٹ کرنے کو انہوں نے کھیل کی جگہ تجارتی مفادات کی ترجیح قرار دیا۔
کولنگ بریکس کا ڈرامہ: ایئر کنڈیشنڈ اسٹیڈیمز کے باوجود ‘ہائیڈریشن بریکس’ (کو لنگ بریکس) کو انہوں نے ایک بہانہ اور ‘اشتہاری ڈرامہ’ قرار دیا۔





