لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00

ایران امریکہ کشیدگی میں کمی کیلئے10روزہ جنگ بندی کی تجویزپیش

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

تہران/واشنگٹن: ایران اور امریکہ کے درمیان جاری شدید فوجی کشیدگی کو روکنے اور سفارتی راستہ ہموار کرنے کے لیے عالمی ثالثوں کی جانب سے 10 روزہ جنگ بندی کی اہم تجویز پیش کر دی گئی ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز نے ایک سینئر ایرانی عہدیدار کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ اس 10 روزہ جنگ بندی کی تجویز کا بنیادی مقصد گزشتہ ماہ طے پانے والے عبوری معاہدے کو دوبارہ فعال اور مستحکم بنانا ہے۔ اس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان جاری محدود فوجی جھڑپوں کو روکنا ہے تاکہ باضابطہ بات چیت کا ماحول بنایا جا سکے۔

ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پریس بریفنگ کے دوران ثالثوں کی جانب سے تجاویز کی موصولی کی تصدیق کی اور بتایا کہ ان کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔ تاہم انہوں نے ان تجاویز کی مکمل تفصیلات ظاہر کرنے سے گریز کیا۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ ایران کشیدگی میں کمی کے لیے سفارتی حل کا حامی ہے، لیکن ساتھ ہی ملکی مسلح افواج امریکی کارروائیوں کا بھرپور اور منہ توڑ جواب دے رہی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ “سفارت کاری اور دفاع دونوں اپنے اپنے دائرہ کار میں اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں۔”

ترجمان ایرانی وزارت خارجہ نے مزید کہا کہ ایران، عمان کے ساتھ مل کر آبنائے ہرمز میں بحری سیکیورٹی اور جہاز رانی کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ پاکستان کی تاریخی ثالثی میں ایران اور امریکہ کے درمیان ایک اہم مفاہمتی یادداشت پر اتفاق ہوا تھا، جس کا مقصد خطے میں جنگ کے خاتمے اور پائیدار امن کو یقینی بنانا تھا۔ تاہم، حالیہ دنوں میں آبنائے ہرمز کے انتظام کے معاملے پر کشیدگی دوبارہ بڑھ گئی تھی۔ ماہرین کے مطابق 10 روزہ جنگ بندی کی یہ تجویز ایک اہم ‘اعتماد سازی کا اقدام’ (Trust-Building Measure) ثابت ہو سکتی ہے۔