نیویارک (بش وِک): بروک لین کے علاقے بش وِک میں واقع وائکوف ہائٹس میڈیکل سینٹر کے باہر ہفتے کی رات امیگریشن نافذ کرنے والے وفاقی ایجنٹوں کی ایک کارروائی نے شدید تنازع اور عوامی احتجاج کو جنم دے دیا۔
عینی شاہدین کے مطابق، ایجنٹوں نے ایک شخص کو زبردستی ہسپتال سے نکال کر حراست میں لیا، جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد سینکڑوں مقامی افراد احتجاج کے لیے جمع ہو گئے۔
محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے مطابق، زیرِ حراست شخص کا تعلق نائیجیریا سے ہے اور وہ غیر قانونی طور پر مقیم تھا۔ حکام کا دعویٰ ہے کہ اسے طبی امداد کے لیے ہسپتال لایا گیا تھا، جہاں اس نے گاڑی سے نکلنے کے حکم کی خلاف ورزی کی، جس پر ایجنٹوں نے “کم سے کم قوت” کا استعمال کیا۔ تاہم، موقع پر موجود شہریوں نے اس موقف کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ اس شخص کی حالت ہسپتال سے فارغ ہونے کے قابل نہیں تھی۔
احتجاج کے دوران صورتحال کشیدہ ہو گئی، جس پر نیویارک پولیس (NYPD) کو طلب کرنا پڑا۔ پولیس نے ٹریفک میں خلل ڈالنے کے الزام میں 9 افراد کو گرفتار کر لیا۔
سٹی کونسل ممبر سینڈی نرس اور ‘نیویارک امیگریشن کولیشن’ نے اس واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ہسپتالوں جیسے حساس مقامات پر امیگریشن کارروائیوں کی مذمت کی ہے اور میئر زہران ممدانی سے اس معاملے پر سخت ایکشن لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
